تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا

by Other Authors

Page 187 of 379

تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 187

187 موجود ہو گئے۔تب مولوی صاحب اپنے علمی زور سے بخاری اور مسلم کی حدیثیں بارش کی طرح لوگوں پر برسانے لگے اور صحاح ستہ کا نقشہ پُرانی لکیر کے موافق آگے رکھ دیا۔اُن کے وعظ سے سخت جوش مخالفت کا تمام شہر میں پھیل گیا کیونکہ ان کی علمیت اور فضیلت دلوں میں مسلم تھی لیکن آخر سعادت از لی کشاں کشاں اُن کو اس عاجز کے پاس لے آئی اور مخالفانہ خیالات سے تو بہ کر کے سلسلہ بیعت میں داخل ہوئے۔اب اُن کے پرانے دوست اُن سے سخت ناراض ہیں مگر وہ نہایت استقامت سے اس شعر کے مضمون کا ورد کر رہے ہیں۔حضرت ناصح جو آویں دیدہ و دل فرش راہ پر کوئی مجھ کو تو سمجھا دے کہ سمجھائیں گے کیا وفات : آپ کی وفات ۱۸۹۷ء سے قبل ہوئی۔اولاد : آپ کے ایک پوتے (ر) صوبیدار فضل حق صاحب خلافت ثانیہ کے دور میں ربوہ مرکز سلسلہ آئے تھے اور سلسلہ سے اپنی عقیدت کا اظہار کرتے تھے۔انہوں نے وہ نسخہ بھی محفوظ رکھا ہوا تھا جس میں مولوی غلام نبی کا ذکر تھا آپ نے ۱۹۸۳ء میں حضرت خلیفہ اسیح الرابع سے ربوہ آکر ملاقات کی۔ماخذ: (۱) ازالہ اوہام حصہ دوم (۲) رجسٹر بیعت اولی مطبوعہ تاریخ احمدیت جلد اصفحه ۳۵۵ (۳) مضمون ”حضرت مولوی غلام نبی خوشابی کی بیعت مطبوعہ روزنامه الفضل ربوہ ۲۷ / جنوری ۲۰۰۱ء (۴) تبلیغ رسالت جلد دوم (۵) اصحاب احمد جلد دہم صفحہ ۱۰۹ بحوالہ رسالہ نور احمد نمبر اصفحه ۱۳ و اصحاب احمد جلد دہم صفحہ ۱۰۲ - ۱۰۹ بحوالہ تذکرۃ المہدی (۶) حیات احمد جلد سوم صفحہ ۱۳۷ ۱۴۲ (۷) ماہنامہ انصار اللہ ربوہ ماہ اکتوبر ۱۹۹۵ء (۸) مضمون ” حضرت مولوی غلام نبی خوشابی کی قبول احمدیت کی عظیم الشان داستان مطبوعة تحیذ الا ذبان ربوہ جنوری ۲۰۰۲ء (۹) انٹرویو مکرم را نا عطاء اللہ صاحب لندن (۱۱) مکرم ظفر اقبال خاں صاحب آف خوشاب حال ربوہ۔☆ ۱۳۵۔حضرت مولوی محمد حسین صاحب علاقہ ریاست کپورتھلہ بیعت : ۴ /جون ۱۸۹۱ء تعارف: حضرت مولوی محمد حسین بھا گورائے کے رہنے والے تھے۔آپ کے والد صاحب کا نام روڑا خاں تھا۔بیعت : آپ نے ۴ جون ۱۸۹۱ء کو بیعت کی رجسٹر بیعت اولی کے مطابق بیعت ۲۳۲ نمبر پر درج ہے۔حضرت اقدس کی کتب میں ذکر : ازالہ اوہام میں مخلصین ، آسمانی فیصلہ میں جلسہ سالانہ ۱۸۹۱ء کے شرکاء اور آئینہ کمالات اسلام میں چندہ و جلسہ سالانہ کے ضمن میں تحفہ قیصریہ میں جلسہ ڈائمنڈ جوبلی اور کتاب البریہ میں پُر امن جماعت میں آپ کا ذکر ہے۔