تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 82
82 پیدا ہوتا ہے ان کو اسلام لانے کے وقت کئی ایک سخت ابتلاء پیش آئے۔لیکن انہوں نے ایسے سخت ابتلاء کے وقت بڑی ثابت قدمی اور استقامت دکھلائی محض ابتغاء لِمرضَاتِ الله دفعداری چھوڑ کر قادیان میں امام کامل کے ہاتھ پر اسلام و بیعت سے مشرف ہوئے۔قرآن شریف سے کامل الفت ہے۔حضرت مولوی عبدالکریم صاحب سے مع ترجمہ اور تفسیر قرآن چند ماہ میں پڑھا ہے۔66 ( نور القرآن ۲ صفحہ ۷۹ روحانی خزائن جلد ۹ صفحه ۴ ۴۵ حاشیه ) وفات: آپ کی وفات ۹ر جولائی ۱۹۵۷ء کو ہوئی۔آپ کی وصیت نمبر ۲۷۹۲ ہے تدفین بہشتی مقبرہ ربوہ قطعہ نمبر ۱۰ حصہ نمبرے میں ہوئی۔اولاد : آپ کی اولاد میں سے ڈاکٹر عبدالرحمن صاحب اکلوتے فرزند ملٹری میں میجر کے عہدہ پر پہنچ کر ریٹائر ہوئے۔تین داماد حضرت مولوی فضل الدین صاحب نائب مشیر قانونی۔حضرت مولوی فرزند علی صاحب امیر جماعت فیروز پور سابق ناظر مال اور چوہدری محمد اسحاق صاحب ابن مولوی فخر الدین صاحب تھے۔ماخذ : (۱) تحفہ قیصریہ روحانی خزائن جلد ۱۲ (۲) کتاب البریہ روحانی خزائن جلد ۱۳ (۳) نور القرآن نمبر ۲ روحانی خزائن جلد ۹ (۴) الحکم ۷ راگست ۱۹۲۳ء (۵) اصحاب احمد جلد دہم (4) مضمون ”حضرت بھائی عبدالرحیم صاحب سابق جگت سنگھ، مطبوعہ ریویو آف ریلیجنز قادیان اپریل ۱۹۴۷ صفحه ۱۷ تا ۲۴ ۳۸۔جناب مولوی مبارک علی صاحب امام چھاؤنی سیالکوٹ بیعت : ۲۸ رمئی ۱۸۹۱ء تعارف : جناب مولوی مبارک علی حضرت مولوی فضل احمد صاحب مرحوم سیالکوٹ چھاؤنی ( آف فیروز والہ ضلع گوجرانوالہ ) کے فرزند تھے۔جو ایک بزرگ اور عالم باعمل تھے۔حضرت اقدس مسیح موعود کے استادزادہ تھے اور آپ سے از حد محبت تھی۔بیعت : آپ نے ۲۸ مئی ۱۸۹۱ء کو بیعت کی۔رجسٹر بیعت میں آپ کا اندراج ۲۲۶ نمبر پر ہے اس وقت آپ غوث گڑ پتحصیل سرہند ریاست پٹیالہ میں تھے۔حضرت اقدس کی کتب میں ذکر : حضرت اقدس نے ازالہ اوہام میں آپ کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: حسی فی اللہ مولوی محمد مبارک علی صاحب۔۔۔۔۔اس عاجز کے اُستاد زادہ ہیں۔ان کے والد صاحب حضرت مولوی فضل احمد صاحب مرحوم ایک بزرگوار عالم باعمل تھے مجھ کو اُن سے از حد محبت تھی کیونکہ علاوہ اُستاد ہونے کے وہ ایک باخدا اور صاف باطن اور زندہ دل اور متقی اور پر ہیز گار تھے۔عین نماز کی حالت میں