تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا

by Other Authors

Page 81 of 379

تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 81

81 کہ حضرت صاحب سے بیعت کر لوں اگر بالفعل سکھ مذہب میں ہی رہوں۔حضرت مولوی صاحب نے دریافت کیا تو حضرت اقدس نے فرمایا ہاں ہم ان کی بیعت لے لیں گے۔بیعت اسی طرح لی گئی جس طرح احمدی ہونے کے وقت لی جاتی ہے۔آپ کی بیعت ۱۸۹۴ء کی ہے۔رجمنٹ میں حضرت منشی جلال الدین صاحب بلانوی کی نیک صحبت تھی جو میر منشی تھے۔آپ نے حضرت اقدس کی کتب کا مطالعہ بھی جاری رکھا۔۱۸۹۵ء میں ملازمت سے استعفیٰ دینے کے بعد قادیان آگئے۔۱۸۹۵ء سے ۱۸۹۹ ء تک آپ کو حضرت مسیح موعود کی بابرکت صحبت میں رہنے کا موقع ملا۔آپ نے حضرت خلیفہ امسح الاول سے صرف ونحو اور طب کی تعلیم حاصل کی۔جبکہ حضرت مولانا عبدالکریم سیالکوٹی سے ترجمہ قرآن پڑھا۔مدرسہ تعلیم الاسلام کے ٹیوٹر اور بعد میں مدرس رہے۔آپ کو حضرت مرزا محموداحمد صاحب (خلیفہ امسیح الثانی حضرت مرزا بشیر احمد صاحب اور حضرت مرزا شریف احمد صاحب کے استاد ہونے کا شرف حاصل ہے۔حضرت مسیح موعود کی موجودگی میں آپ کو نماز کی امامت کی سعادت بھی حاصل ہوئی۔آپ ۱۸۹۵ء سے ۱۹۴۷ء تک قادیان رہائش پذیر رہے۔تقسیم ہند کے وقت پاکستان آئے مگر دیار حبیب کی تڑپ میں ۱۹۴۸ء میں ہی واپس قادیان تشریف لے گئے۔جہاں آپ ۱۹۵۲ء تک قیام پذیر رہے۔آپ ناظر تعلیم و تربیت اور امیر مقامی قادیان بھی رہے۔بچپن میں کتاب ”رسوم ہند کے انبیاء سے متعلق باب نے آپ کے دل میں اسلام کا بیج بویا تھا دھرم کوٹ بگہ ضلع گورداسپور کے سردار سند رسنگھ ( جو چار سال بعد احمدی ہوئے اور ان کا نیا نام سردار فضل حق رکھا گیا ) کے ساتھ ۱۸۹۳ء میں آپ کی نشست و برخاست شروع ہوئی تھی۔ایک دفعہ آپ نے دلائل سے تنگ آ کر کہا کہ یہ پہلے کے قصے ہیں اب کوئی ایسا شخص موجود ہے تو موصوف نے حضرت مسیح موعود کا نام اور پتہ بتایا کہ آپ صاحب کشف والہام ہیں اور آپ کی پیش گوئیاں پوری ہوتی ہیں۔بعد میں آپ نے حضرت اقدس کی کتب پڑھیں اور ۱۸۹۴ء میں ملازمت سے رخصت لے کر قادیان آئے اور پانچ چھ دن قیام کیا۔(ان دنوں کھانا ایک ہندو کے ہاں سے کھاتے تھے۔) خدمات دینیہ : آپ نے تعلیم الاسلام ہائی سکول قادیان میں ۲۹ سال تک پڑھایا۔سفر جہلم ۱۹۰۳ء، سفر دہلی ۱۹۰۵ء میں حضرت اقدس کے ساتھ رہے۔حدیث بخاری کا درس بھی دیتے رہے۔حضرت خلیفہ المسیح الثانی کے ساتھ بھی سفروں میں رفاقت رہی۔حضرت اقدس کی کتب میں ذکر تحفہ قیصریہ میں جلسہ ڈائمنڈ جوبلی اور کتاب البریہ میں پُر امن جماعت کی فہرست میں نام درج ہے۔نور القرآن نمبر ۲ میں آپ کے بارہ میں تحریر ہے و شیخ عبدالرحیم صاحب جو ان صالح اور متقی شخص ہیں۔اُن کے ایمان اور اسلام پر ہمیں بھی رشک