تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا

by Other Authors

Page 83 of 379

تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 83

83 ہی اپنے محبوب حقیقی کو جاملے اور چونکہ نماز کی حالت میں ایک تبتل اور انقطاع کا وقت ہوتا ہے اس لئے ان کا واقعہ ایک قابل رشک واقعہ ہے۔خدا تعالیٰ ایسی موت سب مومنوں کے لئے نصیب کرے۔مولوی مبارک علی صاحب ان کے خلف رشید اور فرزند کلاں ہیں۔سیرت اور صورت میں حضرت مولوی صاحب مرحوم سے بہت مشابہ ہیں۔اس عاجز کے یک رنگ اور پُر جوش دوست ہیں اور اس راہ میں ہر قسم کے ابتلاء کے برداشت کر رہے ہیں حضرت عیسی ابن مریم کی وفات کے بارے میں ایک رسالہ انہوں نے تالیف کیا ہے جو چھپ کر شائع ہو گیا ہے جس کا نام قول جمیل ہے۔اس عاجز کا ذکر بھی اس میں کئی جگہ کیا گیا ہے چونکہ مولوی صاحب موصوف کی حدیث اور تفسیر پر نظر وسیع ہے اس لئے انہوں نے محدثین کی طرز پر نہایت خوبی اور متانت سے اس رسالہ کو انجام دیا ہے۔مخالف الرائے مولوی صاحبان جن کو غور اور فکر کرنے کی عادت نہیں اور جو آنکھ بند کر کے فتوے پر فتویٰ لکھ رہے ہیں انہیں مناسب ہے کہ علاوہ اس عاجز کی کتاب ازالہ اوہام کے میرے دوست عزیز مولوی مبارک علی صاحب کے رسالہ اعلام الناس کو بھی ذرہ غور سے پڑھیں اور خدا تعالیٰ کی ہدایت سے نا امید نہ ہوں گو ان کی حالت بہت خطرناک اور قریب قریب یاس کے ہے لیکن اللہ تعالیٰ ہر یک چیز پر قادر ہے۔مولویوں کا حجاب کفار کے حجاب سے کچھ زیادہ نہیں پھر کیوں اس سرچشمہ رحمت سے نومید ہوتے ہیں۔وهو على كل شيء قدير ۱۹۰۴ء کے ایک مکتوب میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے مولوی مبارک علی کی بابت حضرت نواب محمد علی خان صاحب کو لکھا کہ موصوف میرے استادزادہ ہیں اس لئے ان کی سفارش کی ہے۔مقدمہ: مولوی مبارک علی صاحب کے احمدی ہو جانے کے چند سال بعد چھاؤنی سیالکوٹ کے بعض غیر احمدی اشخاص نے جامع مسجد چھاؤنی سیالکوٹ کی امامت اور تولیت سے مولوی مبارک علی صاحب کو علیحدہ کرنے کے لئے مقدمہ دائر کیا اور جماعت احمد یہ سیالکوٹ نے حضرت چوہدری نصر اللہ خان صاحب ایڈووکیٹ کو اس مقدمہ کی پیروی کرنے کے لئے وکیل مقرر کیا۔اس مقدمہ کا فیصلہ آپ کے حق میں ہوا۔دینی خدمات : آپ بلند پایہ فارسی اور اردو کے شاعر تھے۔آپ کا منظوم کلام اخبار الحکم میں با قاعدگی سے شائع ہوتا رہا۔آپ نے صداقت حضرت مسیح موعود کے موضوع پر بعض اہم کتب تحریر کیں۔آپ کی تصنیف ”القول الجمیل، حضرت مسیح موعود کی صداقت پر ابتدائی کتب میں شامل ہے۔رپورٹ جلسہ سالانہ ۱۸۹۷ء میں آپ کی فارسی نظم بھی شامل ہے۔حضرت اقدس نے انجام آتھم کے صفحہ ۳۱ پر اشاعت دین کے لئے مصارف برداشت کرنے والے احباب میں آپ کا ذکر فرمایا ہے۔حضرت مولانا شمس صاحب نے آپ کو معاصر علماء میں تحریر کیا ہے۔جنہیں حضرت اقدس کی بیعت کا شرف حاصل ہوا۔