تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 50
50 میں ذکر ہے۔وفات : آپ کی وفات اپریل ۱۹۱۰ء میں ہوئی۔اولاد: آپ کے ایک بیٹے کا نام محمد ابراہیم صاحب معلوم ہوا ہے۔ماخذ: () آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد ۵ (۲) آریہ دھرم روحانی خزائن جلده (۳) سراج منیر روحانی خزائن جلد ۱۲ (۴) کتاب البریہ روحانی خزائن جلد ۱۳ (۵) نزول اسیج روحانی خزائن جلد ۸۱ (۶) رساله نور احمد (۷) مضمون ” حضرت مرزا غلام نبی صاحب مسگر امرتسری از الفضل ۱۸ر جون ۱۹۹۰ء ( ۸ ) رجسٹر بیعت مطبوعہ تاریخ احمدیت جلد اوّل۔☆ ۲۰۔حضرت مولوی ابوالحمید صاحب۔حیدر آباد دکن بیعت : ۱۸۹۱ء تعارف: حضرت مولوی ابوالحمید رضی اللہ عنہ ریاست حیدر آباد دکن کی ہائی کورٹ کے وکیل تھے اور سر کار حیدرآباد دکن کے وظیفہ یاب بھی تھے۔آزاد تخلص کرتے تھے۔بیعت کا پس منظر : براہین احمدیہ کی اشاعت کا اشتہار کسی ذریعہ سے آپ کے پاس پہنچا تو آپ کو اور آپ کے دوستوں میں تحریک پیدا ہوئی کہ اس کتاب کو شائع کرنا چاہئیے۔مرزا صادق علی بیگ صاحب استاد و ملازم نواب سر وقار الا مرا بهادر مدار المهام سر کار عالی ریاست حیدر آباد دکن نے براہین احمدیہ کی اشاعت کا تذکرہ نواب صاحب سے کیا۔نواب صاحب نے ” براہین احمدیہ کی اشاعت کے لئے ایک سور و پیہ دیا تھا۔جب براہین احمدیہ چھپ کر آئی تو اس کے پڑھنے سے آپ بے حد متاثر ہوئے۔اس کے بعد فتح اسلام اور توضیح مرام پڑھی جس میں دعوئی ماموریت کیا گیا ہے تو آپ کے احباب میں سے مولوی میر مردان علی صاحب نے لکھا کہ میں نے اپنی عمر میں سے پانچ سال کاٹ کر آپ کے نام لگا دیئے اور مولوی ظہور علی صاحب اور مولوی غضنفر علی صاحب نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی مالی معاونت کی۔حضرت اقدس نے اس کا تذکرہ ازالہ اوہام ( روحانی خزائن جلد سوم صفحہ ۶۲۴) پر کیا ہے۔بیعت : آپ ”ازالہ اوہام تین بار پڑھ چکے تھے کہ مذکورہ احباب نے قادیان کے سفر کی تیاری کر لی تو آپ نے اپنے خیالات بذریعہ تحریر حضرت اقدس کو پہنچانے کے لئے دیئے۔حضرت اقدس نے انہیں پڑھ کر جو روح پرور ارشاد فرمائے انہیں سن کر حضرت مولوی ابوالحمید صاحب بھی سلسلہ بیعت میں داخل ہو گئے۔