تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا

by Other Authors

Page 49 of 379

تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 49

49 گواہ افراد میں آپ کا بھی ذکر فرمایا ہے۔مولوی محمد حسین بٹالوی صاحب کو عدالت میں کرسی نہ ملنے کے واقعہ میں حضور نے بطور گواہ آپ کا نام بھی تحریر فرمایا ہے۔وفات: آپ نے نومبر ۱۹۱۵ء میں امرتسر میں وفات پائی۔وصیت نمبر ۱۵۴۳ بهشتی مقبره قادیان قطعه نمبر ۴ حصه ۸ میں تدفین ہوئی۔نوٹ : مزید سوانحی حالات نہیں مل سکے۔ماخذ: (۱) تبلیغ رسالت جلد هفتم صفه ۲۸ ۳۴(۲) نزو اسی روحانی خزائن جلد ۱۸ (۳) افضل کم دمبر ۱۹۱۵ صفحی۲ ۱۹۔حضرت میاں قطب الدین خانصاحب مسگر۔امرتسر بیعت : ۱۸۹۱ء۔وفات : اپریل ۱۹۱۰ء تعارف: حضرت میاں قطب الدین خاں رضی اللہ عنہ کے والد صاحب کا نام شیر محمد صاحب تھا جو امرتسر کے افغان تھے۔حضرت شیخ نور احمد صاحب مالک ریاض ہند پریس امرتسر جنگ مقدس سے پہلے کے واقعات کا تذکرہ کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے دل میں ڈالا کہ وہ اِن پادری صاحب کو تلاش کریں جو عیسائیوں کی طرف سے مباحثہ میں بطور مناظر پیش ہوں گے۔آپ مستری قطب الدین صاحب کی دکان پر گئے اور ان سے کہا۔۔۔میرے ساتھ چلو تا کہ پادری عمادالدین سے دریافت کریں کہ مناظر کون ہے۔بیعت : حضرت شیخ نوراحمد صاحب، نبی بخش صاحب کی بیعت کا ذکر کر کے لکھتے ہیں کہ ہم تین شخص ہو گئے ایک تو خود دوسرے مستری قطب الدین صاحب تیسرے نبی بخش صاحب رفوگر گویا مستری قطب الدین صاحب جنگ مقدس سے قبل بیعت کر چکے تھے۔رجسٹر بیعت میں آپ کی بیعت ۲۷۲ نمبر پر ہے۔آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اپنے گھر میں دعوت دی تھی۔اس بابرکت دعوت میں شامل ہونے کی سعادت مستری صاحب کے شاگرد مرز اغلام نبی صاحب مسگر کو بھی ملی۔حضرت اقدس کی کتب میں ذکر : پادری ہنری مارٹن کلارک کے مقدمے میں حضرت میاں قطب الدین صاحب کا بھی ذکر آیا ہے۔حضرت اقدس نے اپنی کتاب نزول امیج میں اپنے نشانات میں آپ کا نام بطور گوا تحریر فرمایا ہے۔آپ جلسہ سالانہ۱۸۹۲ء میں بھی شامل ہوئے آپ کا نام آئینہ کمالات اسلام جلسہ سالانہ ۱۸۹۲ء میں شرکت کرنے والوں میں بھی موجود ہے۔اسی طرح آریہ دھرم ، سراج منیر اور کتاب البریہ میں چندہ دہندگان اور پُر امن جماعت کے ضمن