تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 51
51 ۴ رفروری ۱۸۹۸ء کو جب حضرت اقدس نے طاعون کے بارے میں ذکر فرمایا تو جماعت احمدیہ حیدر آباد نے اس اشتہار پر ایک جلسہ احباب کر کے حضرت اقدس کی خدمت میں ایک عریضہ روانہ کیا جس میں اپنے ایمانِ کامل کا اظہار کیا اور اس پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو گواہ ٹھہرایا۔اس پر دس افراد کے دستخط تھے جن میں آپ بھی شامل تھے۔حضرت اقدس کی کتب میں ذکر : کتاب البریہ میں آپ کا ذکر حضرت اقدس نے اپنی پر امن جماعت میں کیا ہے۔ماخذ : (۱) ازالہ اوہام روحانی خزائن جلد ۳ (۲) کتاب البریہ روحانی خزائن جلد ۱۳ (۳) حیات حسن“ (مصنفہ حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی) صفحه ۱۸ تا ۲۳ ۲۱۔حضرت مولوی حاجی حافظ حکیم نور دین صاحب معہ ہر دوز وجہ۔بھیرہ۔ضلع شاہ پور ولادت: ۱۸۴۱ء۔بیعت : ۲۳ / مارچ ۱۸۸۹ء۔وفات : ۱۳ / مارچ ۱۹۱۴ء ابتدائی حالات: حضرت مولوی حاجی حافظ حکیم نورالدین صاحب (خلیفتہ المسیح الاول ) رضی اللہ عنہ کے والد ماجد کا نام حافظ غلام رسول صاحب تھا۔آپ کا نسب نامہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے ملتا ہے۔اس طرح آپ کی قریشی فاروقی نسبت ہے۔آپ کی والدہ صاحبہ کا نام نور بخت تھا۔آپ کی ولادت ۱۸۴۱ء کی ہے۔آپ نے اپنی والدہ ماجدہ کی گود میں قرآن کریم پڑھا اور انہی سے پنجابی زبان میں فقہ کی کتابیں پڑھیں۔کچھ حصہ قرآن شریف کا والد صاحب سے بھی پڑھا۔حکمت اور دیگر علوم بھیرہ ، لاہور، رام پور ،لکھنو ، بھوپال اور مکہ معظمہ کے علماء سے حاصل کیے۔آپ کے استادوں میں مولوی رحمت اللہ کیرانوی اور شاہ عبد الغنی مسجد دی شامل تھے۔حضرت بانی سلسلہ احمدیہ علیہ السلام سے تعلق : حضرت اقدس سے تعلق و تعارف آپ کو سب سے پہلے ضلع گورداسپور کے ایک شخص شیخ رکن الدین صاحب کے ذریعہ ہوا جو ان دنوں جموں میں ملازم تھے۔شیخ صاحب نے بتایا کہ ضلع گورداسپور کے ایک گاؤں قادیان میں ایک شخص مرزا غلام احمد صاحب نے اسلام کی حمایت میں رسالے لکھے ہیں۔غالباً ان دنوں براہین احمدیہ شائع ہو رہی تھی۔آپ بھی مہاراجہ جموں کے ہاں ان دنوں ملازم تھے۔حضرت مولوی صاحب نے یہ سُن کر حضرت کی خدمت میں خط لکھ کر کتابیں منگوائیں اور ان کے آنے پر جموں میں حضرت اقدس کا چرچا ہو گیا۔حضرت مولوی صاحب مزید فرماتے ہیں:۔