تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا

by Other Authors

Page 38 of 379

تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 38

38 ☆ ا۔حضرت منشی فیاض علی صاحب۔۔۔۔۔۔کپور تھلہ ولادت ۱۸۴۱ء۔بیعت ۴ /ستمبر ۱۸۸۹ء۔وفات ۱۶ اکتوبر ۱۹۳۵ء تعارف: حضرت منشی فیاض علی رضی اللہ عنہ محلہ قریشیاں سرا وہ تحصیل ہاپور ضلع میرٹھ کے رہنے والے تھے۔آپ کی ولادت سال ۱۸۴۱ء کی ہے۔آپ کے والد صاحب کا نام رسول بخش تھا۔قوم قریشی باشی تھی۔آپ کے جد امجد زاہد علی قریشی صاحب مغل شہنشاہ جہانگیر کے دور میں ملک عرب سے ہندوستان آئے تھے۔زاہد علی قریشی نے حضرت مجدد الف ثانی سے بیعت کی اور اپنی اولاد کو وصیت کی کہ جو بھی امام مہدی کے دور کو پائے تو ان کی بیعت سے مشرف ہو۔آپ کو حضرت منشی عبد الرحمن صاحب ( جو آپ کے دوست تھے ) نے سراوہ سے بلوا کر ریاست کپورتھلہ کی فوج میں کلرک بھرتی کروا دیا اور اپنے ہی مکان میں رہائش کے لئے انتظام کر دیا۔بیعت کا پس منظر : حضرت منشی عبدالرحمن آپ کو براہین احمدیہ کی اشاعت کے وقت سے ہی سمجھاتے رہتے تھے اور خود بیعت کر لینے کے بعد ان کو بھی بیعت کی ترغیب دیتے رہتے تھے۔بیعت : حضرت منشی فیاض علی قادیان تشریف لے گئے اور حضرت اقدس کی دوستی بیعت کی سعادت حاصل کی۔آپ کی بیعت ۴ ستمبر ۱۸۸۹ء کی ہے۔( یعنی ۷ محرم الحرام ۱۳۰۷ھ ) رجسٹر بیعت میں نمبر ۱۲۳۔(آپ کی دونوں اہلیہ اور ہمشیرہ نے ۲۱ فروری ۱۸۹۲ء کو بمقام کپورتھلہ اس وقت بیعت کی جب حضور کپورتھلہ تشریف لے گئے تھے ) جلسہ سالا نہ ۱۸۹۲ء میں آپ بھی شریک تھے۔آئینہ کمالات اسلام میں جلسہ سالانہ میں شرکت کرنے والوں میں بھی آپ کا نام درج ہے۔حضرت اقدس کی رفاقت : حضرت منشی صاحب حضرت اقدس کے سفر دہلی میں ساتھ رہے۔آپ حضور کے سفر دہلی کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ حضور کے ساتھ جو بارہ حواری تھے ان میں آپ بھی شامل تھے۔حضرت منشی صاحب حقہ نوشی کے عادی تھے۔جالندھر میں حضرت اقدس نے وعظ فرماتے ہوئے حلقہ نوشی کی مذمت فرمائی۔حضرت منشی صاحب نے حضرت اقدس سے عرض کی کہ حقہ چھوڑنا مشکل ہے دعا فرمائی جائے تو چھوٹ جائے۔حضور نے فرمایا کہ آؤ بھی دعا کریں چنانچہ دعا کروائی گئی۔اس کے بعد حضرت منشی صاحب نے خواب میں دیکھا کہ ایک نہایت نفیس حقہ آپ کے سامنے لایا گیا آپ نے حقہ کی ئے منہ سے لگانی چاہی توئے سیاہ سانپ بن کر لہرانے لگی۔اس سے دل میں خوف پیدا ہوا اور آپ نے سانپ کو مار دیا اور پھر حقہ نوشی نہیں کی اور اس سے نفرت ہو گئی۔حضرت منشی صاحب کے بارہ میں دو اہم روایات : حضرت منشی ظفر احمد صاحب بیان کرتے ہیں: