تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 36
36 ہوئی۔قادیان آکر حضرت مصلح موعود نے اپنے خطبہ جمعہ میں آپ کے شائل کا تفصیلی ذکر فرمایا۔اولاد : حضرت منشی صاحب کے بیٹے حضرت شیخ محمد احمد صاحب مظہر ایڈووکیٹ (جن کا نام حضرت مسیح موعود نے رکھا) نے جماعت احمدیہ کی پہلی مجلس مشاورت میں 1922ء میں شرکت کی۔آپ نے لمبا عرصہ وقف جدید کے صدر، مجلس افتاء کے تاحیات رکن اور امیر جماعت احمد یہ ضلع فیصل آباد کے فرائض سرانجام دیئے۔اسی طرح آپ خلافت ثانیہ میں حضرت خلیفتہ اسیح کی علالت کے دوران نگران بورڈ کے رکن تھے اور خلافت ثالثہ کے دوران صدسالہ جو بلی کے بھی ممبر تھے۔۱۹۷۴ء میں حضرت خلیفتہ اسیح الثالث کی معیت میں جماعت احمدیہ کے وفد کے ساتھ پاکستان کی قومی اسمبلی میں پیش ہوئے۔آپ کے بیٹے محترم شیخ مظفر احمد صاحب امیر جماعت احمدیہ ضلع فیصل آباد اور صدر مجلس وقف جدید ، صدر مجلس افتاء اور چیئر مین طاہر فاؤنڈیشن ہیں۔حضرت منشی ظفر احمد صاحب کی وفات کے وقت حضرت شیخ محمد احمد مظہر صاحب کے کثرت اولاد کے لئے دعا تھی جو پوری ہوئی۔ماخذ : (۱) ازالہ اوہام روحانی خزائن جلد ۳ (۲) آسمانی فیصلہ روحانی خزائن جلد ۲ (۳) آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد ۵ (۴) آریہ دھرم روحانی خزائن جلد ۱ (۵) تحفہ قیصریہ روحانی خزائن جلد ۱۲ (۶) کتاب البریہ روحانی خزائن جلد ۱۳ (۷) رجسٹر بیعت اولی مطبوعہ تاریخ احمدیت جلد ۱ صفحه ۳۵۶ (جدید ایڈیشن) (۸) ملفوظات جلد ۵ (جدید ایڈیشن) (۹) اصحاب احمد جلد چہارم (۱۰) ماہنامہ " تشخیز الاذہان فروری ۱۹۹۹ء (۱۱) مضمون حضرت منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی، مطبوعہ الفضل ۲ اکتوبر ۱۹۹۴ء۔۱۰۔حضرت منشی عبدالرحمن صاحب۔۔۔۔۔کپورتھلہ صاحب۔ولادت: ۱۸۳۹ء۔بیعت : ۲۳ / مارچ ۱۸۸۹ء۔وفات : ۲۶ جنوری ۱۹۳۷ء تعارف: حضرت منشی عبدالرحمن رضی اللہ عنہ قصبہ سرا وہ ضلع میرٹھ کے رہنے والے تھے۔آپ کے والد صاحب کا نام شیخ حبیب علی صاحب تھا جو ضلع بلند شہر میں تھانیدار تھے۔آپ کی ولادت ۱۸۳۹ء کی ہے۔چھوٹی عمر میں اپنے والد صاحب کے ساتھ ریاست کپورتھلہ میں آگئے اور یہاں محکمہ بند و بست میں ملازمت اختیار کر و لی۔آپ اہل حدیث مسلک سے تعلق رکھتے تھے۔بیعت اور اس کا پس منظر : آپ براہین احمدیہ کا مطالعہ کرتے ہی حضرت مسیح موعود کے معتقد ہو گئے اور جب بیعت کرنے کا اعلان ہوا تو استخارہ کے بعد فوراً بیعت کرنے کیلئے لدھیانہ روانہ ہو گئے اور بیعت اولی ۲۳/ مارچ ۱۸۸۹ء لدھیانہ میں شامل ہو گئے۔رجسٹر بیعت کے مطابق بیعت کا نمبر ۵۹ ہے۔جہاں پتہ سراوہ تحصیل ہاپوڑ ضلع میرٹھ درج ہے۔آپ اس وقت کپورتھلہ میں تھے۔بیعت کے بارہ میں آپ کا بیان ہے: