تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا

by Other Authors

Page 35 of 379

تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 35

35 بیعت: جب لدھیانہ میں حضرت اقدس نے بیعت لینے کا اعلان فرمایا تو منشی ظفر احمد صاحب نے منشی عبدالرحمن صاحب سے لدھیانہ چلنے کو کہا۔حضرت منشی عبدالرحمن صاحب نے کہا کہ میں استخارہ کرلوں۔منشی ظفر احمد صاحب نے کہا کہ تم استخارہ کرو ہم تو جاتے ہیں۔حضرت منشی اروڑا صاحب ، حضرت محمد خان صاحب اور حضرت منشی ظفر احمد صاحب کے بیعت کرتے وقت حضرت صاحب نے دریافت فرمایا کہ آپ کے رفیق کہاں ہیں؟ منشی صاحب نے عرض کی کہ منشی اروڑا صاحب نے بیعت کر لی ہے اور محمد خان صاحب غسل کر رہے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ میں نہا کر بیعت کروں گا۔چنانچہ محمد خان صاحب نے بعد میں بیعت کی جبکہ حضرت منشی ظفر احمد صاحب کا نام رجسٹر بیعت اولی میں ۵۷ نمبر پر ظفر احمد ولد محمدابراہیم بوڑھا نہ ضلع مظفر نگر درج ہے اس وقت آپ کپورتھلہ میں تھے۔اہل کپورتھلہ کے اخلاص کا ذکر: اہل کپورتھلہ کے اخلاص کے بارے میں حضرت اقدس نے فرمایا: مجھے کپورتھلہ کے دوستوں سے دلی محبت ہے۔۔۔میں امید رکھتا ہوں کہ آپ لوگ اس دنیا اور آخرت میں خدا تعالیٰ کے فضل وکرم سے میرے ساتھ ہوں گے“ آپ کی خدمات : آپ کو حضرت اقدس کے ہمرکاب رہنے کی سعادت حاصل تھی۔۱۸۸۹ء کے بعد حضرت اقدس کے ہر سفر میں آپ ہمرکاب رہے۔حضرت اقدس کی خط و کتابت میں بھی آپ نے حضور کے ذاتی معاون کی حیثیت سے خدمات سرانجام دیں۔ایک مرتبہ حضور نے آپ کے ایک خط نہ کھولنے (جس کے بارہ میں لکھا تھا کہ حضور کے سوا کوئی نہ کھولے) پر فرمایا کہ منشی صاحب آپ بھی اس کو پڑھیں ہم اور آپ کوئی دو ہیں، حضرت مسیح موعود نے ایک دفعہ ایک کتاب کی اشاعت کے سلسلہ میں فرمایا کہ کپورتھلہ کی جماعت اس کی اشاعت کا خرچ برداشت کرے۔حضرت منشی صاحب نے فوراً جا کر اپنی اہلیہ محترمہ کازیور فروخت کیا اور اشاعت کا خرچ برداشت کیا۔حضرت اقدس کی کتب میں ذکر : حضرت اقدس نے ازالہ اوہام میں فرمایا: جی فی اللہ منشی ظفر احمد صاحب یہ جوان صالح کم گو اور خلوص سے بھرا دقیق فہم آدمی ہے۔استقامت کے آثار و انوار اُس میں ظاہر ہیں۔وفاداری کی علامات و امارات اُس میں پیدا ہیں۔ثابت شدہ صداقتوں کو خوب سمجھتا ہے اور اُن سے لذت اٹھاتا ہے۔اللہ اور رسول سے سچی محبت رکھتا ہے اور ادب جس پر سارا مدار حصول فیض کا ہے اور حسن ظن جو اس راہ کا مرکب ہے۔دونوں سیر تیں اُن میں پائی جاتی ہیں۔جزاهم الله خيراً لجزاء“ (ازالہ اوہام حصہ دوم روحانی خزائن جلد ۳ صفحه۵۳۲-۵۳۳) متعدد کتب میں جلسہ سالانہ میں شامل ہونے والے احباب، چندہ دہندگان کی فہرست، پُرامن جماعت اور جلسہ ڈائمنڈ جوبلی کے شرکاء میں آپ کا ذکر فرمایا ہے۔وفات : آپ کی وفات ۲۰ / اگست ۱۹۴۱ء کو کپورتھلہ میں ہوئی۔حضرت مصلح موعود اس وقت ڈلہوزی میں تھے جہاں آپ کی نماز جنازہ غائب پڑھائی۔قادیان میں حضرت مولانا شیر علی نے نماز جنازہ پڑھائی اور بہشتی مقبرہ میں تدفین