تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 211
211 مقدمہ پر خرچ ہو رہا ہے۔لہذا دوست امداد کی طرف توجہ کریں جب حضرت صاحب کی تحریک ڈاکٹر صاحب کو پہنچی تو اتفاق ایسا ہوا کہ اُسی دن اُن کو تنخواہ تقریباً ۴۵۰ روپے ملی تھی۔وہ ساری کی ساری تنخواہ اسی وقت حضور کی خدمت میں بھیج دی۔ایک دوست نے سوال کیا کہ آپ کچھ تو گھر کی ضروریات کیلئے رکھ لیتے تو انہوں نے کہا کہ خدا کا مسیح کہتا ہے کہ دین کیلئے ضرورت ہے تو پھر اور کس کیلئے رکھ سکتا ہوں۔غرض ڈاکٹر صاحب تو دین کیلئے قربانیوں میں اس قدر بڑھے ہوئے تھے کہ حضرت صاحب کو انہیں روکنے کی ضرورت محسوس ہوئی اور انہیں کہنا پڑا کہ اب ان کو مالی قربانی کی ضرورت نہیں۔“ وفات : آپ کی وفات یکم جولائی ۱۹۲۶ ء ہوئی۔آپ کا وصیت نمبر ۷۵۳ ہے۔آپ کی تدفین بہشتی مقبرہ قادیان میں قطعہ نمبر ۳ حصہ نمبر 1 میں ہوئی۔اولاد : آپ کے بیٹے بیٹیوں اور ان کی اولاد کی تعداد ۲۰ سے زائد ہے۔آپ کی دوازواج تھیں۔اہلیہ اول حضرت عمدہ بیگم سے نو بیٹے بیٹیاں تھیں جن میں سے حضرت رشیدہ بیگم (المعروف حضرت محمودہ بیگم سیدہ ام ناصر ) حضرت خلیفہ اسیح الثانی کے عقد میں آئیں۔کرنل تقی الدین اور مکرم خلیفہ علیم الدین صاحب انہی کی اولاد تھے۔اہلیہ ثانی حضرت مراد خاتون سے پانچ بیٹے اور تین بیٹیاں تھیں محترم خلیفہ صلاح الدین صاحب اور خلیفہ منیر الدین صاحب پاک بھارت جنگ ۱۹۶۵ء کے شہید (ستارہ جرات) ان کی اولاد تھے۔خلیفہ صلاح الدین مرحوم کے بیٹے خلیفہ صباح الدین مرحوم ( مربی سلسلہ احمدیہ ) ، خلیفہ فلاح الدین اور خلیفہ رواح الدین لندن میں آپ کی نسل سے ہیں۔ماخذ: (۱) ازالہ اوہام روحانی خزائن جلد نمبر ۳ (۲) آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد نمبر ۵ (۳) سراج منیر روحانی خزائن جلد نمبر ۲ (۴) تحفہ قیصریہ روحانی خزائن جلد نمبر ۱۲ (۵) رجسٹر بیعت اولی مندرجه تاریخ احمدیت جلد اصفحہ ۳۵۷ (۶) لا ہور تاریخ احمدیت صفحہ ۱۴۶ - ۱۴۷ (۷) مضمون مندرجه روزنامه الفضل ۲۳ جون ۱۹۹۸ء ( ۷ ) ماہنامہ انصار اللہ ماہ ستمبر، اکتوبر ۱۹۹۵ء (۸) تاریخ لاہور از ڈاکٹر کنہیا لال صفحہ ۵۲ (۹) روزنانہ الفضل ۱۱ار جنوری ۱۹۲۷ء۔☆ ۱۶۲۔جناب مولوی غلام محی الدین خانصاحب فرزند ڈاکٹر وڑے خانصاحب بیعت مارچ ۱۸۹۷ء۔وفات : ۱۹۶۴ء حضرت اقدس سے تعلق اور بیعت: جناب مولوی غلام محی الدین خاں صاحب حضرت ڈاکٹر بوڑے خاں صاحب قصوری کے بیٹے تھے چونکہ چھوٹی عمر سے ہی اپنے والد ماجد کے ساتھ قادیان جایا کرتے تھے۔اس لئے ضمیمہ انجام آتھم میں ۳۱۳ کی فہرست میں نام درج ہے۔آپ نے مارچ ۱۸۹۷ء میں بیعت کی تھی۔حضرت ڈاکٹر صاحب تو بہت مخلص اور فدائی احمدی تھے مگر جناب مولوی صاحب کا احمدیت سے تعلق نہ رہا۔پیشہ وکالت میں معروف