تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 210
210 ی ہے۔وفات کے بعد خلیفہ صاحب کو اسلامیہ کالج لاہور میں دفن کیا گیا۔لعلیم : حضرت ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب حافظ قرآن تھے۔سکول کی تعلیم کے بعد آپ نے کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج میں تعلیم پائی۔اس خاندان کی خصوصیت تھی کہ سب لڑکے اور لڑکیاں حافظ قرآن تھے۔آپ نے زمانہ طالب علمی میں بینگ میں محمڈن ایسوسی ایشن (Young Men Mohammaden Association) کی بنیادرکھی۔بیعت : حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے دست مبارک پر ۲ جنوری ۱۸۹۲ء کو بیعت کی۔رجسٹر بیعت اولی میں آپ کا نام ۷ ۱۸ نمبر پر درج ہے۔خدمت خلق: لاہور اور آگرہ کے میڈیکل کالج میں پروفیسر رہے۔ملازمت سے ریٹائر ہونے کے بعد آپ ہجرت کر کے مستقل طور پر قادیان آگئے تھے اور نور ہسپتال میں کئی سال تک انچارج کے طور پر کام کیا۔آپ اپنے پیشہ سے اس قدر مخلص تھے کہ ایک دفعہ رات بارہ بجے ایک شخص اپنی بیوی کی تشویشناک حالت کے لئے دوائی لینے آیا آپ اس کی کیفیت کے پیش نظر اس کے ساتھ ہو لئے۔خود دوائی دی اور بتایا کہ اسے ایک گھنٹے بعد دوبارہ دورہ پڑے گا۔باہر کہیں جانوروں کی جگہ انتظار کرتے رہے ٹھیک گھنٹہ بعد دوبارہ دوائی دینے کے لئے گئے۔اس وقت خاتون کی حالت خراب تھی۔آپ نے دوائی دی اور اللہ تعالی نے اپنے فضل وکرم سے صحت دی۔حضرت اقدس کی کتب میں ذکر : حضرت اقدس نے آپ کا ذکر ازالہ اوہام ، آئینہ کمالات اسلام، سراج منیر، کتاب البریہ، تحفہ قیصریہ میں اپنے مخلصین چندہ دہندگان اور جلسہ ڈائمنڈ جوبلی میں شامل ہونے والوں میں کیا ہے۔حضرت اقدس نے آپ کے اخلاص کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے ان کو بہت اخلاص دیا ہے۔ان میں اہلیت اور زیر کی بہت ہے۔اور میں نے دیکھا ہے کہ ان میں نور فراست بھی ہے۔“ آپ کی بڑی بیٹی حضرت رشیدہ المعروف حضرت محمودہ بیگم صاحبہ کی شادی ۱۹۰۳ء میں حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود صاحب سے ہوئی۔جو بعد میں’ام ناصر“ کے نام سے معروف ہوئیں۔اب ان کو قربانی کی ضرورت نہیں“ سید نا حضرت خلیفہ امسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے حضرت ڈاکٹر خلیفہ رشیدالدین صاحب کی مالی قربانی کے بارہ میں ۱۹۲۶ء کے جلسہ سالانہ کے موقع پر فرمایا: اُن کی مالی قربانیاں اس حد تک بڑھی ہوئی تھیں کہ حضرت صاحب نے ان کو تحریری سند دی کہ آپ کو قربانی کی ضرورت نہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا وہ زمانہ مجھے یاد ہے جبکہ آپ پر مقدمہ گورداسپور میں۔۔۔۔تھا اور اس میں روپیہ کی سخت ضرورت تھی۔حضرت صاحب نے دوستوں کو تحریک کی کہ چونکہ اخراجات بڑھ رہے ہیں۔لنگر خانہ تو دو جگہ پر ہو گیا ہے۔ایک قادیان میں اور دوسرا گورداسپور میں۔اس کے علاوہ اور