تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 206
206 ☆ ۱۵۷۔حضرت سید عبدالہادی صاحب۔سولن شملہ بیعت : ۴ / مارچ ۱۸۹۰ء تعارف: حضرت سید عبدالہادی رضی اللہ عنہ اوورسیئر تھے۔آپ کے والد کا نام سید شاہنواز صاحب تھا۔آپ کا اصل وطن ماچھی واڑہ ہے۔لدھیانہ شہر سے ۲۲ میل پر قصبہ سمرالہ تحصیل ہیڈ کواٹر ہے جس کے آگے قصبہ ماچھی واڑہ ہے۔رجسٹر بیعت اولی کے کوائف کے مطابق آپ سب اور سٹئیر ملٹری پولیس بلیلی علاقہ کوئٹہ میں ملازمت کر رہے تھے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت میں آنے سے قبل آپ کے حضرت اقدس سے روابط تھے۔آپ کی طبیعت فقر و تصوف کی طرف مائل تھی۔حضرت اقدس کی بڑی سرگرمی سے خدمت کرتے تھے۔(آپ پہلے مولوی محمد حسین بٹالوی کے بھی معتقد تھے۔) حضرت اقدس کی بیعت : آپ کو م / مارچ ۱۸۹۰ء کو بیعت کرنے کی سعادت ملی۔رجسٹر بیعت اولی میں آپ کا نام ۷۷ انمبر پر ہے۔بیعت کے وقت آپ سب اورسیئر ( ملٹری پولیس جیل کو ئٹہ ) میں تھے۔ازالہ اوہام حصہ دوم میں حضرت اقدس نے سید عبدالہادی صاحب کے بارہ میں فرمایا یہ سید صاحب انکسار اور ایمان اور حسن ظن اور ایثار اور سخاوت کی صف میں حصہ وافر رکھتے ہیں۔وفا دار اور متانت شعار ہیں۔وعدہ اور عہد میں پختہ ہیں۔حیا کی قابل تعریف صفت اُن پر غالب ہے۔۔۔(روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۵۳۳) ایک اہم واقعہ میں ذکر : مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے حضرت سیدعبدالہادی صاحب کو لکھا کہ وہ لدھیانہ سے دریائے ستلج بذریعہ کشتی پار کر کے ماچھی واڑہ آ رہے ہیں۔سید عبدالہادی صاحب گھر آئے کہ اب حضرت مسیح موعود کا مرید ہوں۔مولوی صاحب آئیں گے تو میرے ساتھ الجھ پڑیں گے۔انہوں نے قادیان حضور کو خط لکھا کہ مجھے بہت گھبراہٹ ہے۔حضور سے دعا کے لئے درخواست کی۔حضور نے جواب دیا کہ آپ مطلق نہ گھبرا ئیں۔محمد حسین ماچھی واڑہ میں نہیں آئے گا۔مقررہ دن شہر میں مولوی صاحب کے استقبال کے لئے خوب تیاریاں شروع ہو گئیں اور جامع مسجد میں ان کے استقبال اور وعظ کے لئے بڑا مجمع ہو گیا۔چند آدمیوں کو ایک پالکی دے کر دریا پر بھجوا دیا گیا۔مولوی صاحب نے کشتی سے اُتر کر ادھر ادھر دیکھا۔ان لوگوں سے دریافت کیا کہ کیا میرے آنے کی شہر والوں کو خبر نہ تھی۔ان لوگوں نے کہا جناب خبر تھی اس لئے تو یہ پالکی آپ کے لئے بھجوائی ہے۔اس میں سوار ہو جائیں۔ہم آپ کو شہر لے چلیں گے وہاں تمام شہر کے لوگ جمع ہیں۔وہاں مسجد میں استقبال ہوگا۔مولوی محمد حسین صاحب سخت برہم ہوئے اور نا راضگی سے اس کشتی میں بیٹھ کر واپس لدھیانہ شہر کو چلے گئے۔