تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 207
207 حضرت اقدس کی کتب میں ذکر : حضرت اقدس نے آپ کا ذکر ازالہ اوہام میں مخلصین اور آئینہ کمالات اسلام میں چندہ دہندگان اور جلسہ سالانہ میں شامل ہونے والوں اور کتاب البریہ میں پرامن جماعت میں فرمایا ہے۔خاندان میں احمدیت: آپ کے بڑے بھائی حضرت سید شاہ محمد صاحب پرشین ٹیچر گورنمنٹ سکول سمرالہ بھی صحابی تھے۔ماخذ : (۱) ازالہ اوہام روحانی خزائن جلد ۳ (۲) آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد ۵ (۳) کتاب البریہ روحانی خزائن جلد ۱۳ (۴) مضمون ”سید محمد حسن شاہ کی یاد میں مندرجہ۔الفضل ربوه یکم فروری ۱۹۸۳ء صفحه ۴ (۵) رجسٹر بیعت مندرجہ تاریخ احمدیت جلد اول صفحه ۳۵۲ (۶) الفضل ربوہ ۱۲ را پریل ۱۹۸۹ء۔☆ ۱۵۸۔حضرت مولوی عبداللہ خان صاحب۔پٹیالہ بیعت ۴ رمئی ۱۸۸۹ء۔وفات : ۱۹۳۵ء تعارف: حضرت مولوی محمد عبد اللہ خاں رضی اللہ عنہ مہندر کالج پیٹیالہ میں عربی کے پروفیسر تھے۔آپ کے والد میاں بہرام علی صاحب تھے۔وزیر ریاست پٹیالہ خلیفہ محمد حسن جیسے اعلیٰ پایہ کے لوگ انہیں اپنی مجلس کی زینت سمجھا کرتے تھے۔بیعت : حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے نہایت ابتدائی زمانہ میں جب چاروں طرف مخالفت کی آگ بھڑک رہی تھی تو آپ نے شرف بیعت حاصل کیا۔رجسٹر بیعت اولی میں آپ کی بیعت ۹۲ نمبر پر ہے جہاں مولوی محمد عبداللہ فخری کاندھلہ ضلع مظفر نگر شعبہ تدریس ملازمت تحریر ہے۔یہی پٹیالہ والے مولوی محمد عبد اللہ صاحب ہیں۔آپ نے ۴ رمئی ۱۸۸۹ء کو بیعت کی۔پٹیالہ سے پنشن پا کر مستقل طور پر لاہور میں سکونت اختیار کر لی۔آپ کے فرزند مولانا مصطفیٰ خان ماہنامہ ”ادب“ نکالا کرتے تھے۔آپ نے حضرت اقدس سے اپنی سب سے پہلی ملاقات کے بارے میں ۱۳ / جون ۱۸۸۸ء کی خود نوشت میں ذکر کرتے ہیں : حضور جب پٹیالہ سے متصل قصبہ سنور میں تشریف لائے تو مجھے آپ کی زیارت نصیب ہوئی میانہ قد گندمی رنگ کشادہ پیشانی داڑھی خضاب کی ہوئی۔عمر چالیس سال کے قریب رکھتے تھے۔سلام کہہ کر مصافحہ کیا اور بیٹھ گیا۔بہت مخلوق آپ کے دیدار کے لئے آئی ہوئی تھی۔آپ کے چہرے سے بزرگی اور جلال الہی کے آثار نمایاں تھے۔آپ کا ظاہر احکام شریعت کے موافق اور باطن اللہ جانتا ہے۔حلم وحیا آپ پر غالب تھے۔نماز ظہر آپ کے پیچھے ادا کی۔ہر چند کہ ایسے لوگوں کی استعداد شناخت نہیں رکھتا۔مگر ان کا وجود مبارک بمنزلہ رحمت الہی اور دین حق کے لئے غیر محدود قوت کا موجب ہے۔ان کے مجدد ہونے سے انکار سراسر جہل و نادانی ہے۔66