تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا

by Other Authors

Page 204 of 379

تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 204

204 ۱۸۹۱ ء و۱۸۹۲ء میں شامل ہونے والوں میں اور کتاب البریہ میں پُر امن جماعت میں آپ کا ذکر فرمایا ہے۔حضرت اقدس کی دلجوئی کا ایمان افروز واقعہ : ابتدائی زمانہ میں مسجد مبارک بہت چھوٹی تھی۔ایک دعوت کے موقع پر حضرت حاجی صاحب لوگوں کو جگہ دیتے دیتے جوتیوں والی جگہ پر پہنچ گئے۔کھانا شروع ہوا تو حضرت اقدس کی دور بین نگاہ بھانپ چکی تھی۔حضور ایک پیالہ سالن کا لے کر آئے اور انہیں مخاطب کر کے فرمایا کہ آدمیاں نظام دین میں اور آپ اندر بیٹھ کر ا کٹھے کھاتے ہیں۔“ حضرت منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی کی روایت کے مطابق اس دلجوئی کا ذکر ہے۔ماخذ: (۱) آسمانی فیصلہ روحانی خزائن ۲ (۲) آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد ۵ (۳) کتاب البریہ روحانی خزائن جلد ۱۳ (۴) اصحاب احمد جلد چہارم۔۱۵۴۔حضرت عطاء الہی صاحب غوث گڑھ۔پٹیالہ بیعت : ۲۵ / جولائی ۱۸۹۰ء تعارف : حضرت عطاء الہی رضی اللہ عنہ غوث گڑھ تھا نہ کہمانوں تحصیل سرہند ریاست بیٹیالہ کے رہنے والے تھے اور زمیندار تھے۔آپ کے والد ماجد کا نام فتح محمد صاحب تھا۔حضرت میاں عبد اللہ سنوری کے ذریعہ آپ کو احمدیت کی حقانیت کا علم ہوا۔بیعت : آپ نے ۲۵ جولائی ۱۸۹۰ء کو بیعت کی تھی۔رجسٹر بیعت اولی میں آپ کی بیعت ۲۰۱ نمبر پر درج ہے۔آپ کے علاوہ غوث گڑھ سے حضرت کرم الہی ثانی ولد ما وانمبر ۲۰۰ اور حضرت نور محمد ولد ہوشناک نمبر دار نمبر۲۰۳ اور حضرت نور محمد صاحب ولد لکھا نمبر دار نمبر ۷۸ ابھی ہیں ، نے جولائی ۱۸۹۰ء میں حضرت اقدس کی بیعت کی جن کا اندراج رجسٹر بیعت میں ہے۔چوہدری منیر احمد ایڈوکیٹ آپ کی ہی نسل سے ہیں۔حضرت اقدس کی کتب میں ذکر : حضور نے آئینہ کمالات اسلام میں آپ کا نام جلسہ سالانہ ۱۸۹۲ء میں شرکت کرنے والوں میں درج فرمایا ہے۔وفات : حضرت عطاء الہی صاحب کی وفات غوث گڑھ میں ہوئی اور وہیں مدفون ہیں۔اولاد (1) آپ کے بیٹے چوہدری مبارک احمد صاحب چک نمبر ۳۸ جنوبی ضلع سرگودھا ہیں۔اشفاق احمد ڈرائیور دارالفضل ربوہ بھی آپ کی نسل سے ہی ہیں۔ماخذ: (۱) آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد ۵ (۲) رجسٹر بیعت اولی مندرجہ تاریخ احمدیت جلد اصفحہ ۳۵۳۔