تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا

by Other Authors

Page 203 of 379

تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 203

203 ☆ ۱۵۳ - حضرت حاجی ملا نظام الدین صاحب - اودیانہ بیعت : ۱۸۹۱ء تعارف: حضرت حاجی ملا نظام الدین رضی اللہ عنہ لدھیانہ کے رہنے والے تھے۔آپ نے پہلے جلسہ سالانہ ۱۸۹ء میں شمولیت کی سعادت پائی۔بیعت کا پس منظر : مباحثہ لدھیانہ (۲۰ مئی تا ۲۹ مئی ۱۸۹۱ء) سے پہلے میاں نظام الدین صاحب نے مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی سے پوچھا کہ حضرت مسیح کی زندگی پر قرآن شریف میں کوئی آیت ہے تو مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے کہا کہ میں آیات موجود ہیں۔مولوی محمد حسین کی رضا مندی سے میاں صاحب حضرت اقدس مسیح موعود کے پاس حاضر ہوئے اور وفات عیسی علیہ السلام کی دلیل طلب کی۔حضرت اقدس نے فرمایا قرآن شریف ہے۔میاں نظام الدین نے کہا اگر قرآن شریف میں حیات مسیح ثابت ہو تو آپ مان لیں گے؟ حضرت اقدس نے فرمایا ہاں ہم مان لیں گے۔میاں نظام الدین صاحب نے اس پر کہا میں آپ کو میں آیات حضرت مسیح کی زندگی پر لا دوں گا۔اس پر حضرت اقدس نے فرمایا میں کیا تم ایک ہی آیت لا دو۔میں قبول کرلوں گا اور اپنا دعوی مسیح موعود چھوڑ دوں گا۔میاں نظام الدین چادر، جوتا اور دوپٹہ (پرنا ) چھوڑ کر برہنہ پا دوڑتے ہوئے مولوی محمد حسین اور دیگر مولویوں کے پاس گئے اور کہا میں مرزا صاحب کو ہرا آیا ہوں۔مولوی خوش ہوئے اور پوچھا کس طرح؟ بتایا کہ حیات مسیح پر ہیں آیات کا وعدہ کر آیا ہوں آپ حسب وعدہ مجھے ہیں آیات نکال دیں۔حضرت مولوی محمد حسین بٹالوی گھبرا کر کھڑے ہوئے اور عمامہ سر سے پھینک دیا اور کہا تو مرزا کو نہیں ہمیں ہرا آیا اور ہمیں شرمندہ کیا۔میں مدت سے مرزا کو حدیث کی طرف کھینچتا ہوں اور وہ مجھے قرآن کی طرف لاتے ہیں۔تب مولوی نظام الدین صاحب کی آنکھیں کھل گئیں تو کہا جب قرآن تمہارے ساتھ نہیں تو جدھر قرآن شریف ہے ادھر میں ہوں۔بیعت حضرت اقدس مولوی نظام الدین یہ کہ کر واپس چلنے لگے تو مولوی محمد حسین صاحب نے مولوی محمد حسن صاحب ( جنکے مکان پر تمام مولوی ٹھہرے ہوئے تھے) سے کہا کہ اس کی روٹی بند کر دو لیکن مولوی نظام الدین پر حق آشکار ہو چکا تھا۔انہوں نے اس تحریص کی کوئی پرواہ نہ کی اور حضرت اقدس کی خدمت میں حاضر ہو کر شرمندہ سے ہو کر رہ گئے۔دو چار بار کے دریافت کرنے پر رو کر عرض کیا کہ حضرت وہاں یہ معاملہ گزرا میری روٹی بھی بند کر دی اب تو جدھر قرآن شریف ادھر میں۔پھر مولوی صاحب نے بیعت کر لی ان کا بیعت کرنا تھا کہ مولویوں میں ایک شور مچ گیا۔حضرت اقدس کی کتب میں ذکر : حضرت اقدس نے آسمانی فیصلہ اور آئینہ کمالات اسلام میں جلسہ سالانہ