تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا

by Other Authors

Page 141 of 379

تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 141

141 پہلو میں دفن ہوئے۔چکوال میں کاروبار نہ چلنے کی وجہ سے آپ قادیان چلے گئے تھے۔شادی اور اولاد : آپ کی پہلی شادی سہگل برادری میں ہوئی تھی اس کی وفات کے بعد دوسری شادی محترمہ شہزادی بیگم صاحبہ سے ہوئی۔آپ کی ایک دو بیٹیاں عائشہ بیگم اور حلیمہ بیگم تھی آپ کا ایک بیٹا فضل الہی جو آٹھ سال کی عمر میں فوت ہو گیا تھا۔آپ کے ایک بیٹے سیٹھی کرم الہی تھے۔ایک پوتے سیٹھی حمید احمد ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر لا ہور اور پوتی محترمہ حمیدہ بیگم سیٹھی صاحبہ احمد یہ ہائی سکول کبوتر انوالی سیالکوٹ کی ہیڈ مسٹرس تھیں۔ماخذ : (۱) کتاب البریہ روحانی خزائن جلد ۱۳ (۲) سیرۃ المہدی جلد سوئم (۳) خود نوشت میں کیونکر احمدی ہوا“ حضرت سیٹھی غلام نبی صاحب از سیٹھی کرم الہی صاحب سیالکوٹ مطبوعہ روز نامه افضل ر بوه مورخه ۱۴ جون ۱۹۴۷ء ☆ ۸۶ - حضرت با بومحمد بخش صاحب ہیڈ کلرک چھاؤنی انبالہ بیعت : ۱۸۸۹ء وفات ۱۵/ مارچ ۱۹۳۲ء تعارف: حضرت بابو محمد بخش رضی اللہ عنہ انبالہ کے رہنے والے تھے اور امرتسر کے معروف خدا رسیدہ عالم مولوی عبداللہ غزنوی کے ساتھ عقیدت رکھنے والوں میں سے تھے۔حضرت اقدس سے تعلق اور بیعت: حضرت بابو محمد بخش صاحب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ابتدائی زمانہ کے فدائیوں میں شامل تھے۔آپ کی بیعت ابتدائی سال ایام ۱۸۸۹ء کی ہے۔ہر خدمت کو بجالانا اپنی سعادت اور خوش بختی سمجھتے تھے۔حضرت منشی محمد بخش صاحب براہین احمدیہ کی اشاعت کیلئے بدل و جان مصروف رہے۔اس کا ذکر حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے مکتوب بنام حضرت منشی احمد جان صاحب (مورخه ۱۵/ مارچ ۱۸۸۴ء) میں فرمایا ہے۔حضرت با بوصاحب کے دیگر چند ساتھی منشی الہی بخش اور منشی عبدالحق جو ( حضرت صوفی منشی احمد جان صاحب کے مریدوں میں سے تھے ) حضرت اقدس سے تعلق کو قائم نہ رکھ سکے۔جبکہ آپ نے حضرت اقدس سے اس تعلق اخوت کو آخر دم تک قائم رکھا۔حضرت اقدس کی کتب میں فرگر : حضرت اقدس مسیح موعودعلیہ السلام اپنے مکتوب مورثہ استمبر ۱۸۸ء بنام حکیم مولوی نورالدین صاحب ( خلیفہ امسیح الاول ) میں حضرت بابو صاحب کے بارے میں تحریر فرماتے ہیں:۔اس عاجز سے ارادت اور محبت رکھتا ہے اور وہ بہت عمدہ آدمی ہے۔اس کے مال سے ہمیشہ آج تک وو مجھ کو مدد پہنچتی رہی ہے۔“ ازالہ اوہام میں چندہ دہندگان میں بھی آپ کا ذکر ہے۔آئینہ کمالات اسلام میں جلسہ سالانہ ۱۸۹۲ء کے