تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا

by Other Authors

Page 140 of 379

تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 140

140 سے کہا کہ دونوں قادیان گئے ہیں۔چنانچہ آپ کی درخواست پر چوہدری صاحب کارڈ لے آئے (حضرت شیخ صاحب بخار میں مبتلا تھے۔( بیعت کا کارڈ انہوں نے ہی لکھا اور آپ نے آمنا و صدقنا فاكتبنا مع الشاهدين لکھ کر دستخط کردیئے۔سیٹھی غلام نبی کے احمدیت قبول کرنے پر بھائیوں میں اختلاف ہوا اور کاروبا را الگ الگ ہو گیا۔آپ کی قادیان روانگی: تھوڑی مدت کے بعد آپ قادیان گئے تو حضرت اقدس کے بالا خانے پر حضرت اقدس کے خادم حضرت حافظ حامد علی کے ساتھ ملاقات ہوئی۔حضرت اقدس کھڑے رہے اور آپ کو چار پائی پر بیٹھنے کو کہا اور خود ایک بکس میں سے مصری نکالی اور خود شربت بنا کر آپ کو پلایا۔مذکورہ ملاقات میں آپ نے حضرت اقدس سے براہین احمدیہ مانگی جو ختم ہو چکی تھی صرف ایک نسخہ حضرت کے استعمال کا تھا جسے آپ نے سیٹھی صاحب کو دے دیا۔واپسی پر آپ بھیرہ حضرت حکیم مولانا نورالدین (خلیفہ اسی الاول) سے ملاقات کر کے گھر واپس آئے۔ایک روایت کے مطابق آئینہ کمالات اسلام توسیع کے زیر تصنیف کے ۸۰ صفحات حضرت اقدس نے آپ کو دیئے۔حضرت اقدس سے تعلق۔بیٹوں کی ولادت کی خبر : حضرت سیٹھی صاحب کی اہلیہ محترمہ کو اٹھر کی پیاری تھی۔جب حضرت حکیم مولانا نورالدین (خلیفتہ المسیح الاول ) قادیان تشریف لائے تو بغرض علاج سیٹھی صاحب بھی بمع اہلیہ قادیان تشریف لے گئے۔ایک دن حضرت اقدس اور اہل خانہ اپنے باغ میں گئے اور مالی سے شہتوت لانے کو فرمایا۔حضرت سیٹھی صاحب کی اہلیہ شہتوت تو ڑ لائیں۔جو مالی شہتوت لایا وہ صاف نہیں تھے۔جب حضرت اقدس کے پاس رکھے گئے تو آپ نے فرمایا مالی والے شہتوت صاف نہیں اور یہ صاف ہیں۔حضرت اماں جان نے فرمایا کہ یہ غلام نبی کی بیوی تو ڑ کر لائی ہے۔حضور نے اوپر دیکھا تو فرمایا خدا اس کو بیٹا دے۔جب حضرت حکیم مولانا نورالدین صاحب ( خلیفہ اُسیح الاوّل) مطب پر آئے تو آپ نے سیٹھی صاحب کو مبارک دی کہ اب کسی دوائی کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ حضور نے یہ لفظ فرمائے ہیں جو پورے ہوں گے۔چنانچہ سیٹھی صاحب کے ہاں بیٹا پیدا ہوا مگر ڈیڑھ سال کا ہو کر فوت ہو گیا۔حضرت اقدس کو اطلاع دی گئی تو آپ نے فرمایا دوسرے کا انتظار کرو۔پھر لڑکا پیدا ہوا جس کا نام کرم الہی رکھا گیا۔حضور کی دعا کے مطابق بڑی عمر والا ہوا۔سیرت المہدی میں ہے کہ حضرت اقدس نے ایک مرتبہ اپنا کر نہ تبرک دیا اور ایک دفعہ مصری کا شربت تیار کر کہ پلایا۔آپ نے مختلف مالی تحریکات میں بھی حصہ لیا۔ایک دفعہ سیٹھی صاحب کا قیام حضرت مولانا حکیم نورالدین (خلیفہ اسیح الاوّل) کے گھر ہوا۔رات کے بارہ بجے کسی نے دروازے پر دستک دی۔دیکھا کہ ایک ہاتھ میں لیمپ اور ایک ہاتھ میں گلاس دودھ کا لئے حضرت مسیح موعوڈ کھڑے ہیں اور فرمایا بھائی صاحب کہیں سے دودھ آ گیا تھا تو میں آپ کے لئے لے آیا۔(آپ راولپنڈی میں تجارت کرتے تھے۔آپ ۱۹۲۴ء میں قادیان ہجرت کر کے آگئے اور دارالرحمت میں مکان لیا) حضرت اقدس کی کتب میں ذکر : کتاب البریہ میں پُر امن جماعت کے ضمن میں ذکر ہے۔وفات: آپ ۱۶ را پریل ۱۹۳۰ء کو وفات پاگئے اور بہشتی مقبرہ قادیان میں حضرت چوہدری نصر اللہ خان صاحب کے