تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا

by Other Authors

Page 142 of 379

تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 142

142 شرکاء جلسہ میں آپ کا ذکر ہے۔وفات : آپ کی وفات ۱۵ مارچ ۱۹۳۲ء کو ہوئی آپ کی وصیت نمبر ۱۰۴۲ ہے آپ کی تدفین بہشتی مقبرہ قادیان قطعہ نمبرے حصہ نمبر۴ میں ہوئی۔ماخذ: (۱) مکتوبات احمد یہ جلد پنجم نمبر (۲) ازالہ اوہام روحانی خزائن جلد ۳ (۳) آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد ۵ - ☆ ۸۷- حضرت منشی رحیم بخش صاحب میونسپل کمشنر لدھیانه بیعت: ابتدائی ایام میں تعارف و بیعت : حضرت منشی رحیم بخش رضی اللہ عنہ کے بارہ میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے اپنا ایک رویا میر عباس علی سے بیان کیا۔جسے بیان کر کے حضرت اقدس نے فرمایا کہ شاید وہ تمہارالدھیانہ ہی نہ ہو۔پھر وہ رویا حضرت منشی رحیم بخش صاحب کے مکان پر پورا ہوا۔وہ رؤیا حضرت اقدس بیان فرماتے تھے کہ: ہم کسی شہر میں گئے ہیں اور وہاں کے لوگ ہم سے برگشتہ ہیں اور انہوں نے کچھ اپنے شکوک دریافت کئے۔جن کا جواب دیا گیا لیکن وہ ہمارے خلاف ہی رہے نماز کے لئے کہا کہ آؤ تم کو نماز پڑھائیں تو جواب دیا کہ ہم نے پڑھی ہوئی ہے اور خواب میں یہ واقعہ ایسی جگہ پیش آیا تھا جہاں ہماری دعوت تھی۔اس وقت ہمیں ایک کھلے کمرہ میں بٹھایا گیا۔لیکن اس میں کھانا نہ کھلایا گیا پھر بعد میں ایک تنگ کمرہ میں بٹھایا گیا اور اس میں بڑی دقت سے کھانا ) سیرت المہدی جلد سوم ) کھایا گیا۔“ یہ رویا یوں پوری ہوئی کہ حضرت صاحب لدھیانہ تشریف لے گئے اور منشی رحیم بخش صاحب کے مکان پر دعوت ہوئی۔جہاں پہلے ایک کھلے کمرہ میں بٹھا کر پھر ایک تنگ کمرہ میں کھانا کھلایا گیا۔پھر وہاں ایک شخص مولوی عبدالعزیز صاحب کی طرف سے منشی احمد جان کے پاس آیا اور آکر کہا کہ مولوی صاحب کہتے ہیں کہ قادیان والے مرزا صاحب ہمارے ساتھ آ کر بحث کر لیں یا کو توالی چلیں۔اس پر غشی صاحب نے کہا کہ ” اگر کسی نے اپنے شکوک رفع کروانے ہیں تو محلہ صوفیاں میں آجائے۔جہاں حضرت صاحب ٹھہرے ہوئے ہیں۔اس رؤیا کے پورا ہونے پر لالہ ملاوا مل نے شہادت دی تھی کہ واقعی رویا پورا ہوگیا۔“ اس دعوت میں حضرت میر عنایت علی شاہ لدھیانوی بھی شریک تھے۔حضرت اقدس کی کتب میں ذکر : حضرت اقدس نے کتاب البریہ میں پر امن جماعت میں آپ کا نام درج فرمایا ہے۔ماخذ : (۱) انجام آتھم روحانی خزائن جلد ۱ (۲) کتاب البریہ روحانی خزائن جلد ۱۳ (۳) سیرت المہدی جلد سوم