تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا

by Other Authors

Page 138 of 379

تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 138

138 ہوشیار پوری سے ہوا جو ان دنوں وہاں مہتمم بندوبست تھے۔مولوی صاحب وہاں حضرت اقدس کے معمولات کا مشاہدہ کرتے رہے۔حضرت اقدس سے بیعت کی درخواست کی لیکن حضور نے انکار فرما دیا کہ ابھی بیعت لینے کا حکم نہیں ملا اور بعد ازاں آپ نے ۲۰ / جولائی ۱۸۹۲ء کو بیعت کی رجسٹر بیعت میں آپ کا نام ۳۴۵ نمبر پر درج ہے۔رجسٹر بیعت اولی مندرجہ تاریخ احمدیت جلد اول صفحه ۳۶۲) دینی خدمات: بیعت کے بعد حضرت مولوی صاحب کثرت سے قادیان جاتے اور روحانی چشمہ سے سیراب ہو کر واپس لوٹتے۔قادیان میں زائرین کو دعوت الی اللہ کرتے اور کتب کی طباعت کے کام میں مدد دیتے اور پروف کی تصحیح کرتے۔ایک مرتبہ حضرت اقدس نے مولوی صاحب کو خطبہ کے لئے ارشاد فرمایا۔آپ نے پنجابی زبان میں خطبہ دیا جسے لوگوں نے پسند کیا اور بہت سے لوگوں نے حضرت اقدس کی بیعت کر لی۔حضرت اقدس سے عاشقانہ تعلق فدائیت : حضرت اقدس کے عشق میں گداز تھے۔حضرت اقدس سیر کر کے جب واپس آتے تو آپ آگے بڑھ کر حضور کی نعلین مبارک اپنے کندھے والی چادر ( پر ناں) سے صاف کرتے۔مستری نظام الدین صاحب سیالکوٹی سنایا کرتے تھے کہ حضرت مولوی صاحب کا اخلاص جنون کی حد تک پہنچا ہوا تھا۔جب حضرت اقدس سیالکوٹ گئے اور حضرت مولوی صاحب سڑک پر آ رہے تھے کہ کسی عورت نے کھڑکی سے حضور پر راکھ ڈالی۔حضور آگے نکل چکے تھے۔اس لئے راکھ مولوی صاحب کے سر پر پڑی۔اس سے مولوی صاحب وجد میں آگئے اور محویت کے عالم میں پنجابی میں کہا۔پارے مائے پا یعنی اے محترمہ! اور راکھ ڈالو تا کہ حق کے راستہ میں اس قسم کے سلوک سے میں پوری طرح لطف اندوز ہوسکوں۔سیالکوٹ میں ایک موقع پر حضرت اقدس کی رہائش گاہ پر واپس آتے ہوئے آپ بڑھاپے کے باعث پیچھے رہ گئے تو بعض شریروں نے آپ کی بے عزتی کی بلکہ پکڑ کر مٹی گوبر وغیرہ منہ میں ٹھونس دیا تو آپ پر پھر وجد کی کیفیت واہ بر ہانا ایہ نعمتاں کتھوں“ طاری ہوگئی اور فرمایا : - یعنی برہان الدین یہ نعمتیں روز روز اور ہر شخص کو کہاں نصیب ہوتی ہیں۔آپ کے شاگرد: علم حدیث میں آپ کے بہت سے شاگرد ہوئے جن میں جناب مولوی مبارک علی صاحب سیالکوٹی، حضرت مولوی عبدالرحمن کھیوال اور حضرت مولوی محمد قاری معروف تھے۔(ضلع چکوال تاریخ احمدیت ) حضرت اقدس کی کتب میں تذکرہ: ان کو یہ بھی سعات حاصل ہوئی کہ حضرت مسیح موعود سے قرآن شریف پڑھا۔حضرت اقدس نے حضرت مولوی صاحب کی وفات پر فرمایا:۔وو وہ اول ہی اول ہوشیار پور میں میرے پاس آگئے۔ان کی طبیعت میں حق کیلئے ایک سوزش اور جلن تھی۔مجھ سے قرآن شریف پڑھا۔بائیس برس سے میرے پاس آتے تھے۔صوفیانہ مذاق تھا۔جہاں فقراء کو دیکھتے وہیں چلے جاتے۔میرے ساتھ بڑی محبت رکھتے تھے۔میں چاہتا ہوں کہ ماتم پر سی کیلئے لکھ دوں۔بہتر ہے کہ ان کا جولڑ کا ہو