تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 139
139 وہ یہاں آجاوے تا کہ وہ بھی باپ کی جابجا ہو۔“ ( ملفوظات جلد چہارم صفحه ۵۸۵-۵۸۶) آئینہ کمالات اسلام میں جلسہ کے شرکاء میں آپ کا بھی ذکر فرمایا ہے۔سراج منیر تحفہ قیصریہ اور کتاب البریہ میں چندہ مہمان خانہ جلسہ ڈائمنڈ جوبلی اور پر امن جماعت کے ضمن میں ذکر ہے۔اسی طرح ملفوظات میں مختلف رنگ میں بھی بار ہاذکر ہے۔ضمیمہ انجام آتھم میں آپ کا خدمت حضرت اقدس میں مصروف احباب میں نام درج ہے۔وفات: آپ کی وفات سے قبل حضرت اقدس مسیح موعود کو الہام ہوا دو شہتیر ٹوٹ گئے انہیں دنوں حضرت مولوی عبدالکریم سیالکوٹی اور حضرت مولوی برہان الدین جہلمی کی وفات ہوئی۔آپ کی وفات ۳ دسمبر ۱۹۰۵ء کو ہوئی اور آپ کی تدفین جہلم کے قبرستان میں ہوئی۔مدرسہ احمدیہ کی بنیاد ان ہر دو علماء کی وفات کے بعد ان کی یاد میں اور نئے علماء پیدا کرنے کے لئے رکھی گئی۔اولاد: آپ کی اولاد میں حضرت مولوی عبدالمغنی رضی اللہ عنہ تھے جن کا اسم گرامی ۳۱۳ کی فہرست’انجام آتھم میں درج ہے حضرت مولوی عبد المغنی ایک لمبا عرصہ امیر جماعت احمدیہ جہلم رہے۔ماخذ : (۱) آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد ۵ (۲) تحفہ قیصریہ روحانی خزائن جلد ۱۲ (۳) سراج منیر روحانی خزائن جلد ۱۲ (۴) کتاب البریہ روحانی خزائن جلد ۱۳ (۵) ضمیمہ انجام آتھم صفحہ ۳۱ روحانی خزائن جلد ۱ (۶) ملفوظات جلد چہارم (۷) رجسٹر روایات (۸) تفسیر کبیر جلد نم (۹) الفضل ربوہ ۲۸ / جولائی ۲۰۰۱ ء (۱۰) عالم روحانی کے لعل و جواہر از الفضل ربوہ ارجون ۲۰۰۱ (۱۱) ماہنامہ انصار الله بجون ۱۹۹۵ء (۱۲) روزنامه الفضل ربوه مورخه ۲۱ جنوری ۱۹۸۹ء۔(۱۲) رجسٹر بیعت اولی مندرجه تاریخ احمدیت جلد ۱ (۱۴) ضلع چکوال تاریخ احمدیت۔☆ ۸۵۔حضرت شیخ غلام نبی صاحب۔۔۔راولپنڈی صاحب بیعت : ۱۸۹۲ء وفات ۱۶ را پریل ۱۹۳۰ء تعارف و بیعت: حضرت شیخ غلام نبی رضی اللہ عنہ موضع کوٹھیاں ضلع چکوال کے رہنے والے تھے جو بعد میں بسلسلہ تجارت راولپنڈی چلے گئے آپ کے والد کا نام شیخ فضل دین تھا خواجگان برادری تجارت کلکتہ بنگال سیٹھی فیملی سے تعلق رکھتے تھے۔جب حضرت مولوی عبدالکریم سیالکوٹی کے چاچو ہدری محمد بخش سیالکوٹی راولپنڈی گئے تو اُن دنوں حضرت شیخ غلام نبی صاحب راولپنڈی میں تھے۔چوہدری محمد بخش صاحب نے ذکر کیا کہ حضرت مرزا غلام احمد نے مسیح مہدی ہونے کا دعوی کر دیا ہے۔حضرت شیخ صاحب کا اس سے قبل حضرت حافظ حکیم مولانا نور الدین رضی اللہ عنہ (خلیفة أسبح الا قول ) اور مولوی عبدالکریم سیالکوٹی سے قریبی رابطہ معلوم ہوتا ہے۔اس لیے آپ نے موصوف سے پوچھا کہ مولوی نورالدین صاحب (خلیفہ اسیح الاوّل) اور مولوی عبد الکریم سیالکوٹی کا کیا حال ہے انہوں نے آپ