تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 137
137 ☆ ۸۴۔حضرت مولوی برہان الدین صاحب جہلم ولادت : ۱۸۳۰ء۔بیعت : ۲۰ / جولائی ۱۸۹۲ء۔وفات :۳ / دسمبر ۱۹۰۵ء تعارف: حضرت مولوی برہان الدین رضی اللہ عنہ کے والد صاحب کا نام مولوی بین صاحب تھا۔آپ کی قوم گھر تھی۔آپ کی ولادت ۱۸۳۰ ء ہوئی آپ للیانی نزد چک سکندر ضلع گجرات کے رہائشی تھے ( بور یا نوالی میں زرعی زمین تھی) وہاں سے جہلم شہر میں آگئے جہاں آپ امام الصلوۃ تھے۔آپ پچیس سال کی عمر میں دہلی تشریف لے علم کی جستجو : آپ نے سید نذیر حسین دہلوی سے علم حدیث حاصل کیا۔۱۸۵۶ء میں واپس جہلم آکر تحریک اہلحدیث کے پُر جوش کارکن کے طور پر کام کرتے رہے۔زبان میں بہت اثر تھا۔آپ طبیب بھی تھے۔لوگوں میں خاصی عزت و شہرت تھی۔جہلم ، گجرات، گوجرانوالہ اور سیالکوٹ میں اہلحدیث محرک اور معروف عالم تھے اور اس کی اشاعت کرتے رہے۔آپ کو ظاہری علوم کے ساتھ ساتھ باطنی علم کی بھی جستجو رہتی تھی۔کئی سال حضرت مولوی عبداللہ غزنوی کی صحبت میں رہے بعد ازاں حضرت پیر صاحب کوٹھہ شریف کی مریدی اختیار کی لیکن روحانی تسکین حاصل نہ ہوسکی۔حضرت اقدس سے تعلق : حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتاب براہین احمد یہ پڑھ کر زیارت کا شوق اور یہ خیال پیدا ہوا کہ یہ شخص آئندہ کچھ بنے والا ہے اس لئے اسے دیکھنا چاہئے۔اس ارادہ سے قادیان پہنچے لیکن حضرت اقدس ہوشیار پور بغرض چلہ کشی مقیم تھے۔آپ بھی ہوشیار پور گئے اور خادم کے ذریعہ اطلاع بھجوائی۔جب خادم اندر گیا تو الہام ہوا کہ جہاں آپ نے پہنچا تھا پہنچ گئے ہیں اب یہاں سے مت ہیں۔خادم نے واپس آ کر معذرت کی کہ اس وقت فرصت نہیں۔اس لئے پھر کسی وقت تشریف لائیں۔حضرت مولوی صاحب نے خادم سے کہا میرا گھر دور ہے میں انتظار میں یہیں دروازہ پر ہی بیٹھتا ہوں۔خادم پھر اندر گیا اور حضور کو جواب سے مطلع کیا۔اس وقت حضور کو الہام ہوا کہ مہمان آئے تو اس کی مہمان نوازی کرنی چاہئے۔جس پر حضور نے خادم کو جلدی سے دروازہ کھول کر مہمان کو اندر لے کر آنے کا حکم دیا۔جب حضرت مولوی صاحب اندر ملاقات کیلئے گئے تو حضور بڑی خندہ پیشانی سے ملے اور فرمایا ابھی الہام ہوا ہے حضرت مولوی صاحب نے عرض کی کہ مجھے بھی الہام ہوا تھا کہ یہاں سے مت ہیں۔جہاں پہنچنا تھا آپ پہنچ گئے۔حضرت مولوی صاحب تمام دینی علوم تفسیر حدیث فقه نحو وغیرہ کے معتبر عالم تھے۔طب یونانی میں خاص ملکہ تھا۔اردو، فارسی، عربی ، پشتو کے ماہر اور تقریر وتحریر میں یکتائے روزگار تھے۔حضرت اقدس کی بیعت : حضرت مولوی صاحب چند روز ہوشیار پور رہے۔آپ کا تعارف مرزا اعظم بیگ