تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا

by Other Authors

Page 124 of 379

تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 124

124 وفات آپ کی وفات جون ۱۹۲۱ء بعمر ۸۴ سال کو ہوئی۔اولاد: (۱) سردار محمد صاحب (۲) مظفرالدین صاحب ( جو پشاور کی جماعت کے امیر بھی رہے ) ماخذ : (۱) آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد ۵ (۲) رجسٹر بیعت اولی مندرجہ تاریخ احمدیت جلد اول صفحه ۳۵۹ (۳) لاہور تاریخ احمدیت (۴) خطبات محمود جلد نمبر۷ (۵) روزنامه الفضل ربوه ۲۱ / مارچ ۱۹۸۳ء۔☆ ۷۲۔جناب شیخ رحمت اللہ صاحب تاجر لاہور بیعت ۲۹ مئی ۱۸۹۱ء۔وفات ۱۰ / مارچ ۱۹۲۴ء تعارف و بیعت: جناب شیخ رحمت اللہ صاحب ضلع گجرات کے رہنے والے تھے۔آپ نے ۲۹ مئی ۱۸۹۱ء کو بیعت کی۔رجسٹر بیعت اولی میں آپ کا نام ۲۹ نمبر پر ہے۔آپ کے ایک بھائی شیخ عبدالرحمن صاحب بھی ۳۱۳ رفقاء میں سے ہیں۔جن کی بیعت ۷۶ انمبر پر رجسٹر بیعت اولیٰ میں درج ہے اور تاریخ بیعت ۲۷ / دسمبر ۱۸۹۱ ء ہے۔ستمبر ۱۸۹۱ء کو حضرت مسیح موعود نے دہلی کا سفر اختیار فرمایا تو اس میں جناب شیخ رحمت اللہ صاحب حضور کے ساتھ تھے۔حضرت اقدس کی کتب میں ذکر : حضرت اقدس نے ازالہ اوہام میں آپ کے متعلق لکھا : جواں صالح یک رنگ آدمی ہے ان میں فطرتی طور پر مادہ اطاعت اور اخلاص اور حسن ظن اس قدر ہے کہ جس کی برکت سے وہ بہت ہی ترقیات اس راہ میں کر سکتے ہیں۔“ آسمانی فیصلہ اور آئینہ کمالات اسلام میں جلسہ سالانہ ۱۸۹ء ۱۸۹۲۷، تحفہ قیصریہ میں جلسہ ڈائمنڈ جوبلی میں، آریہ دھرم ، سراج منیر میں پُر امن جماعت کے ضمن میں نام درج ہے۔ملفوظات کی تمام جلدوں میں مختلف رنگ میں ذکر ہے۔ضمیمہ انجام آتھم میں خصوصی معاونت کرنے والوں میں آپ کا نام شامل ہے۔حضرت اقدس فرماتے ہیں: حتمی فی اللہ شیخ رحمت اللہ صاحب گجراتی، شیخ رحمت اللہ جوان صالح ، یک رنگ آدمی ہے ان میں فطرتی طور پر مادہ اطاعت اور اخلاص اور حسن ظن اس قدر ہے۔جس کی برکت سے وہ بہت سی ترقیات اس راہ میں کر سکتے ہیں ان کے مزاج میں غُربت اور ادب بھی از حد ہے اور ان کے بشرہ سے علامات سعادت ظاہر ہیں۔حتی الوسع وہ خدمات میں لگے رہتے ہیں۔(ازالہ اوہام روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۵۳۷) لاہور انگلش وئیر ہاؤس کے نام سے آپ کا کپڑے کا بڑا کاروبار تھا آپ حضرت اقدس کی خدمت میں گرم کپڑے تیار کر کے بڑے اخلاص سے پیش کیا کرتے تھے۔