تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 125
125 آپ کے بھائی شیخ عبدالرحمن صاحب اور بھتیجے عبدالرزاق صاحب بیرسٹر نے بھی حضرت اقدین کی بیعت کی۔آپ کی وفات حضرت خلیفتہ المسیح الاول کی وفات کے بعد نظام خلافت سے وابستہ نہ رہے اور غیر مبائعین میں شامل ہو گئے۔آپ کی وفات ۱۰ مارچ ۱۹۲۴ء کو ہوئی۔مگر کبھی بھی حضرت خلیفتہ اسیح الثانی کی مخالفت نہ کی۔اولاد: آپ نے ایک یورپین خاتون سے بھی شادی کی تھی۔جس سے ایک بیٹا پیدا ہوا حضرت اقدس نے اس کا نام عبد اللہ رکھا۔ماخذ: (۱) ازالہ اوہام روحانی خزائن جلد ۳ (۲) آسمانی فیصلہ روحانی خزائن جلد ۲ (۳) آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد ۵ (۴) تحفہ قیصریہ روحانی خزائن جلد ۱۲ (۵) سراج منیر روحانی خزائن جلد ۱۲ (۶) آریہ دھرم روحانی خزائن جلده ۱ (۷) ضمیمہ انجام آتھم صفحه ۲۹ (۸) رجسٹر بیعت اولی مندرجہ تاریخ احمدیت جلد اول صفحہ ۳۵۵-۳۷۶(۹) لا ہور تاریخ احمدیت ☆ ۷۳۔حضرت شیخ نبی بخش صاحب لاہور ولادت: ۱۸۶۳ء۔بیعت : ۲۷ / دسمبر ۱۸۹۱ء۔وفات : ۱۹۴۴ء تعارف: حضرت شیخ نبی بخش رضی اللہ عنہ کا تعلق علاقہ کشتوار راجستھان کے راجپوتوں سے تھا۔( جو مذ ہب ہندو تھے ) بعد میں حضرت شیخ صاحب موصوف کا تعلق مستقل لاہور سے ہے۔آپ کے والد صاحب کا نام عبدالصمد صاحب تھا۔آپ انٹرنس کے امتحان میں اول رہے اور اس طرح وظیفہ کے حقدار ٹھہرے۔بیعت کا پس منظر : آپ نے ستمبر ۱۸۸۲ء میں حضرت اقدس کو خواب میں دیکھا تھا۔جو ۱۲۷ دسمبر ۱۸۹۱ء کو پورا ہوا۔رؤیا میں ایک پیر مرد نورانی صورت آپ کے سامنے آیا ہے۔اس کا تمام و کمال حلیہ آپ کے دل پر نقش ہوا آپ بیدار ہو گئے۔براہین احمدیہ کے بار بار مطالعہ سے آپ کے دل میں ایک امنگ پیدا ہوئی کہ خود قادیان جا کر حضرت اقدس سے ملاقات کی جائے۔۱۳ار جون ۱۸۸۶ ء میں پنڈت لیکھرام کا بیان صاحبزادی عصمت بیگم کی ولادت کے موقع پر حضرت اقدس کی پیشگوئی پسر موعود کے خلاف شائع ہوا۔آپ نے اُس پر ایک استفسار حضور سے کیا جس کا ذکر اشتہار محک الا خیارو الاشرار پر ہے۔اکتوبر ۱۸۸۶ء میں آپ قادیان گئے اور حضرت اقدس کی اقتداء میں نماز پڑھی۔حضرت اقدس کے رسالہ فتح اسلام اور توضیح مرام کی اشاعت پر ہندوستان میں ایک سخت مخالفت کا طوفان برپا ہوا۔حضرت اقدس کو ایک جلسہ کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی۔اُس پر آپ کو بھی حضرت اقدس نے دو مکتوب لکھے۔بیعت : ۲۷/ دسمبر ۱۸۹۱ء کو حضرت مولوی عبدالکریم صاحب آسمانی فیصلہ سنانے کیلئے مقرر کئے گئے لیکن آپ نے جب حضرت اقدس کے رُوئے مبارک اور لباس کی طرف دیکھا تو وہی حلیہ تھا اور وہی لباس زیب تن تھا جس کو