تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا

by Other Authors

Page 99 of 379

تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 99

99 اسی طرح حضور نے اپنے ایک اشتہار میں مخالفین کی طرف سے گورنمنٹ کو پہنچائی گئی ، خلاف واقعہ اطلاعات کی تردید کرتے ہوئے اپنے خاندان اور سلسلہ کے صحیح حالات بیان فرمائے ہیں اور بطور نمونہ اپنی جماعت کے ۳۱۶ اصحاب کے نام درج فرمائے ہیں جس میں آپ کا نام بھی ۲۳۱ نمبر پر موجود ہے۔یہ اسماء تبلیغ رسالت جلد ہفتم صفحہ ۲۷ اور کتاب البریہ روحانی خزائن جلد ۳ صفحہ ۳۵۰۔۳۵۷ پر موجود ہیں۔اولاد: آپ نے اپنی ایک بیٹی کی شادی حضرت میاں محمد ظہور الدین صاحب آف ڈولی کہار آگرہ کے ساتھ کی جو آپ کے شاگردوں میں سے ہی تھے۔آپ کے تین بیٹے قاضی منظور احمد ، عبداللطیف اور منظور الحق صاحب تھے۔اب ان کی اولاد لکھنو اتر پردیش بھارت ) کراچی اور لندن میں ہے۔آپ کے ایک پوتے چوہدری محمد نسیم صاحب لکھنو امیر جماعت احمد یہ اتر پردیش ( بھارت) ہیں۔ماخذ: (۱) آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد نمبر ۵ (۲) رجسٹر بیعت مندرجہ تاریخ احمدیت جلد ۱ صفحه ۳۶۰ (۳) تبلیغ رسالت جلد ۱۳ (۴) کتاب البریہ روحانی خزائن جلد نمبر ۱۲ (۵) رجسٹر روایات نمبر ۷ صفحه ۳ (۶) رجسٹر روایات نمبرا اصفحہ ۳۵۸ (۷) انٹرویو چوہدری محمدنیم امیر جماعت احمدیہ لکھنو ( اتر پردیش بھارت) (۸) ریویو آف رپیچنز اکتوبر ۱۹۴۲ صفحه ۱۶۔۵۱ - حضرت مولوی غلام حسن صاحب رجسٹرار۔۔۔۔۔۔پشاور ولادت : ۱۸۵۲ء۔بیعت ۷ ارمئی ۱۸۹۰ء۔وفات یکم فروری ۱۹۴۳ء تعارف: حضرت مولوی غلام حسن رضی اللہ عنہ کے والد صاحب کا نام جہان خان صاحب تھا۔آپ کی اصل سکونت میانوالی تھی اور یہ علاقہ ضلع بنوں میں تھا۔آپ کے خاندان کے احباب اب بھی اس علاقے خصوصاً موسیٰ خیل میں موجود ہیں۔آپ کی عارضی سکونت پشاور میں تھی۔بیعت کے وقت آپ گورنمنٹ سکول ( یعنی میونسپل بورڈ سکول پشاور ) میں مدرس تھے۔بعد میں آپ رجسٹرار ہو گئے تھے۔حضرت مولوی صاحب کے مہربان و مربی حضرت مرزا محمد اسماعیل قندھاری ( جن کی ہمشیرزادی سے آپ کا نکاح ہوا تھا) ایک بلند پایہ صوفی بزرگ تھے جو پشا ور محلہ گل بادشاہ کے رہنے والے تھے۔حکومت انگریزی میں ڈسٹرکٹ انسپکٹر آف سکوئز تھے۔انہوں نے کتاب براہین احمدیہ کی اشاعت کے لئے چندہ بھیجا تھا اور براہین احمدیہ کو پڑھ کر فرماتے تھے کہ اس شخص کی تحریر مسیح ناصری کی تحریر وتقریر سے ملتی ہے۔یہ بڑے عالی مرتبہ کا ولی ہے۔بیعت کا پس منظر : حضرت مرزا محمد اسماعیل صاحب نے حضرت اقدس کا تذکرہ پیر صاحب کوٹھہ شریف سے صرف اس قدر سن رکھا تھا کہ اب اُن کا (یعنی پیر صاحب کو ٹھہ شریف کا دور ختم ہو گیا ہے کیونکہ مہدی آخرالزمان پیدا