تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا

by Other Authors

Page 100 of 379

تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 100

100 ہو چکا ہے اس کی زبان پنجابی ہے اور بعض لوگ مہدی آخر الزمان کو دیکھ لیں گے۔حضرت مرز امحمد اسماعیل صاحب قندھاری نے حضرت اقدس سے کشفی طور پر مصافحہ کر رکھا تھا اور اس مصافحہ کو بیعت تصور کرتے تھے۔جب دسمبر ۱۸۸۸ء میں حضرت مسیح موعود قادیان سے لدھیانہ تشریف لے گئے اور حضرت اقدس نے اپنی بعثت کا اعلان کیا تو مرزا محمد اسماعیل صاحب نے مولوی غلام حسن صاحب سے کہا کہ حضرت اقدس کی ملاقات کو جاؤ۔بیعت : حضرت مرزا محمد اسماعیل صاحب کی تحریک پر مولوی صاحب نے لدھیانہ جا کر حضرت اقدس سے ملاقات کی۔انہی ایام میں حضرت اقدس نے بیعت لینے کا اعلان بھی کیا۔حضرت مولوی غلام حسن صاحب نے ۷ ارمئی ۱۸۹۰ء کو بیعت کی۔رجسٹر بیعت اولیٰ میں آپ کی بیعت نمبر ۱۹۲ پر درج ہے اور سکونت اصلی میانوالی ضلع بنوں ہے۔رجسٹر بیعت اولی مندرجه تاریخ احمدیت جلد اول صفحه ۳۵۳) حضرت اقدس سے تعلق : حضرت مسیح موعود کی زندگی میں مولوی صاحب کی تجلی بیٹی لڑکی کی شادی حضرت اقدس کے صاحبزادہ حضرت مرزا بشیر احمد صاحب رضی اللہ عنہ سے ہوئی۔حضرت خلیفہ اسیح الاوّل رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد حضرت مولوی صاحب غیر مبائعین میں شامل ہو گئے مگر حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم اے رضی اللہ عنہ کی دعاؤں بالخصوص دوران تصنیف کتاب ”سلسلہ احمدیہ اور حضرت قاضی محمد یوسف صاحب کی کوششوں سے حضرت مولوی صاحب نے صدق دل سے حضرت خلیفہ اسیح الثانی کی بیعت کر لی۔ایک بار حضرت صاحبزادہ مرزا مظفر احمد صاحب (ایم۔ایم۔احمد ) نے حضرت مولوی صاحب سے ۱۹۴۲ء میں قادیان میں پوچھا کہ آپ قریباً چالیس سال علیحدہ رہے۔اب کس طرح بیعت (خلافت) کرلی۔آپ نے ایک چھوٹا سا فقرہ جواب میں کہا جو بہت سبق آموز تھا۔فرمانے لگے میں اللہ تعالیٰ کی فعلی شہادت کو رد نہیں کر سکتا“ حضرت اقدس کی کتب میں ذکر : ازالہ اوہام میں حضرت اقدس نے فرمایا: وفا دارا در مخلص ہیں بہت جلد اللہی راہوں اور دینی معارف میں ترقی کریں گے کیونکہ فطرت نورانی رکھتے ہیں۔“ (ازالہ اوہام روحانی خزائن جلد سوم ) آئینہ کمالات اسلام میں جلسہ سالانہ ۱۸۹۲ء اور چندہ دہندگان میں ذکر ہے۔کتاب البریہ میں پُر امن جماعت کی فہرست میں نام شامل ہے۔خدمات دینیہ : آپ مفسر قرآن بھی تھے اور ایک کتاب تفسیر حسن بیان لکھی تھی۔قرآن کریم کی کثرت سے تلاوت کا یہ عالم تھا کہ کوئی دو ہزار سے زائد مرتبہ تلاوت قرآن کر چکے تھے اور جن مقامات کو نہیں سمجھتے تھے ان کے بارے میں یہ خیال تھا کہ یہ انسان کی اپنی استعدادوں کا قصور ہے۔وفات : حضرت مولوی صاحب نے یکم فروری ۱۹۴۳ء کو قادیان میں وفات پائی اور بہشتی مقبرہ قادیان میں تدفین ہوئی۔آپ نے ۲۲؍ جنوری ۱۹۴۲ء کو خلافت ثانیہ کی بیعت کرلی تھی۔۱۹۱۱ ء میں آپ کی خدمت کے پیش نظر دہلی دربار