تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا

by Other Authors

Page 98 of 379

تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 98

98 حضرت صوفی احمد جان کے ساتھ فریضہ حج پر دعائیں : ۱۸۸۵ء کے اوائل میں حضرت صوفی احمد جان صاحب سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اجازت سے جب حج پر روانہ ہونے لگے تو حضرت مسیح موعود نے اپنے قلم سے انہیں ایک دردانگیز دعاتحریر کے فرمائی اور ساتھ ہدایت دی کہ: آپ پر فرض ہے کہ انہیں الفاظ سے بلا تبدیل و تغیر بیت اللہ میں حضرت ارحم الراحمین میں اس عاجز کی طرف سے دعا کریں۔“ ریویو آف ریجنز اکتوبر ۱۹۴۲ صفحه ۱۶) چنانچہ حضرت صوفی صاحب نے یہ دعا بیت اللہ شریف میں بھی اور میدان عرفات میں بھی پڑھی۔آپ کے پیچھے اس وقت آپ کے تقریباً ہمیں خدام اور عقیدت مند بھی تھے جن کو آپ نے فرمایا کہ میں حضرت مسیح موعود کا دعائیہ مکتوب بلند آواز سے پڑھتا ہوں تم سب آمین کہتے جاؤ چنانچہ ایسا ہی کیا گیا۔آپ کے ساتھ اس عبادت حج اور پھر حضرت مسیح موعود کی دعا میں شامل ہونے والے خدام میں سے ایک حضرت قاضی زین العابدین بھی تھے۔آپ فرماتے ہیں کہ حضرت منشی احمد جان وہ بزرگ ہستی ہیں جنہوں نے حضرت مسیح موعود کی ابتدائی حالت کو ہی دیکھ کر لوگوں کی بیعت لینی چھوڑ دی تھی اور جو کوئی آتا اس کو آپ فرمایا کرتے تھے کہ اب جس کو یا دالہی کا شوق ہو وہ قادیان مرزا غلام احمد صاحب کے پاس جائے ہم مخلوق خدا کو ایک ایک قطرہ دیا کرتے تھے مگر یہ شخص یعنی حضرت مسیح موعود علیہ السلام تو ایسا عالی ہمت پیدا ہوا ہے کہ اس نے تو چشمہ پر سے پتھر ہی اٹھا دیا اب جس کا جی چاہے سیر ہو کر پئے۔حضرت صوفی صاحب کی وفات کے بعد جو ۲۷ / دسمبر ۱۸۸۵ء میں ہوئی، حضرت قاضی صاحب نے حضرت مجددالف ثانی رحمۃ اللہ علیہ کے مزار پر جا کر مراقبہ کیا اور یاد الہی میں محور ہے۔اس دوران آپ کئی بار قادیان آئے اور آ کر ہفتہ ہفتہ ٹھہر کر واپس چلے جاتے۔بالآ خر فرماتے ہیں کہ حضرت منشی احمد جان صاحب کی عقیدت کی وجہ سے میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت کر لی پھر حضرت اقدس کی مجلس کا جو رنگ مجھ پر چڑھا اس کے پہلا پھیکا لگا۔بیعت : آپ نے ۲۱ فروری ۱۸۹۲ء کو بمقام کپورتھلہ حضور علیہ السلام کے ہاتھ پر بیعت کا شرف حاصل کیا جبکہ حضور سیالکوٹ سے واپسی پر کپورتھلہ تشریف لے گئے تھے۔رجسٹر بیعت اولی میں آپ کی بیعت کا اندراج ۲۹۶ نمبر پر ہے ۲۱ فروری ۱۸۹۲ء بمقام کپورتھلہ زین العابدین ولد غلام حسین خان پور ریاست پٹیالہ ڈاکخانہ سرہند تحریر ہے۔آپ کے دوسرے بھائی قاضی نظام الدین بھی رفیق حضرت اقدس کے تھے۔حضرت اقدس سے اخلاص کے تعلق کا ذکر : دسمبر ۱۸۹۲ء میں آپ قادیان آئے اور جماعت احمدیہ کے دوسرے تاریخی جلسہ میں شرکت فرمائی چنانچہ آپ کا نام شاملین جلسہ کے اسماء مندرجہ آئینہ کمالات اسلام میں ۷۸ ویں نمبر پر درج ہے۔اس خوش نصیبی کے علاوہ آپ کے حصہ میں یہ سعادت بھی آئی کہ حضور علیہ السلام نے آپ کا نام ۳۱۳ صحا بہ مندرجہ کتاب انجام آتھم میں بھی رقم فرمایا ہے۔