تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 95
95 ☆ -- حضرت منشی حمید الدین صاحب لود یا نه ولادت : ۱۸۵۵ء۔بیعت: ۲۵ / دسمبر ۱۸۹۵ء خاندان کا تعارف : حضرت منشی حمید الدین رضی اللہ عنہ میرٹھ کے رہنے والے تھے آپ کے والد صاحب کا نام شیخ بدرالدین صاحب تھا۔آپ کے آباؤ اجداد کا پیشہ ملازمت تھا یا تجارت۔یہ خاندان میرٹھ کے علاوہ کانپور لکھنو،ساگر اور ہندوستان اور یورپ کے اکثر شہروں میں آباد تھا۔آپ کے دادا شیخ خدا بخش صاحب کے تین بیٹے فخر الدین صاحب ، شمس الدین صاحب اور بدرالدین صاحب تھے۔آپ کے والد صاحب بوجہ ٹھیکیداری کا بار نہ اٹھا سکنے کے تتلاش روز گارسیا لکوٹ سے شاہ پور گئے اور وہاں محکمہ بندوبست میں ملازم ہو گئے۔ولادت: حضرت منشی حمید الدین رضی اللہ عنہ کے خود نوشت مضمون مطبوعہ الحکم ۱۲؍ دسمبر ۱۹۳۵ء کے مطابق آپ ۱۸۵۵ء میں موضع و ہر تحصیل پھالیہ ضلع گجرات میں پیدا ہوئے۔اس موضع میں جانے کا پس منظر یہ تھا کہ آپ کے والد فقیر دوست اور صوفی مشرب تھے وہ نقشبندی خاندان کے ایک بزرگ اور صاحب ارشاد بابا فیض بخش صاحب کے ہاں ٹھہرے ہوئے تھے۔حضرت منشی صاحب کی ولادت کے بعد آپ کے والد نے قصبہ مڈھ رانجھا والا (مڈھ رانجھا۔ناقل ) تحصیل بھیرہ ( خاص تحصیل بھلوال ) ضلع شاہ پور ( حال ضلع سرگودھا) میں رہائش اختیار کر لی۔تعلیم و ملازمت: حضرت منشی صاحب نے جس مدرسہ میں تعلیم پائی اس میں مولا نا عبدالرحیم فاضل قصبہ کلانور ضلع گورداسپور اور مولا نا عبدالحکیم صاحب پروفیسر یونیورسٹی کالج لاہور کے والد ماجد تعلیم دیا کرتے تھے۔جہاں آپ نے بھی فارسی ریاضی اور دینیات کی تعلیم حاصل کی۔اس کے بعد پہلے تو میڈیکل پوپل (Pupil) ہوکر رسالہ ہذا میں اور پھر ۱۸۷۳ء میں میڈیکل کالج لاہور میں داخل ہوئے (بوجہ چند موجبات تعلیم مکمل نہ کر سکے ) پھر خوشاب میں کچھ عرصہ محر ر عمارات رہ کر ۱۸۷۳ء میں محکمہ بندوبست میں میانوالی، سونی پت ضلع دہلی اور لودیانی میں محرر کھیوٹ رہے سونی پت میں آپ کے والد ماجد کا انتقال ہو گیا۔۱۸۸۰ء میں محکمہ پولیس میں بطور محرر ملازم ہو گئے۔جہاں ایک لمبا عرصہ ملازم رہے۔بیعت کا پس منظر : حضرت منشی صاحب بیان کرتے ہیں کہ میڈیکل کالج لاہور میں تعلیم کے دوران چینیاں والی مسجد لاہور میں جایا کرتا تھا جہاں مولوی محمد حسین بٹالوی صاحب وعظ کیا کرتے تھے۔وعظ کے اثر سے مقلدین اور غیر مقلدین اور ان کے رسائل و فتاوی جو ہر ایک کی تردید و تکفیر کے ہیں ان سے پرانے آئمہ اور اولیاء کرام کی عظمت دل سے اٹھ گئی۔۱۳۰۲ھ میں آپ نے صوفیا کی طرف رجوع کیا اور حضرت صوفی احمد جان لودھیانوی جو ایک مشہور بزرگ اور صاحب ارشاد تھے ، کی خدمت میں گئے مگر وہ حج سے واپسی پر انتقال کر گئے۔