تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا

by Other Authors

Page 94 of 379

تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 94

94 احمدی‘ کے نام سے ۱۹۰۱ء میں لکھی ایک اور رسالہ عاقبۃ المکذبین اور سورۃ الاخلاص‘ کی تفسیر بھی لکھی۔جب آپ کی اہلیہ صاحبہ فوت ہو گئیں اور آپ ملازمت سے الگ ہو گئے تو لدھیانہ کو ہمیشہ کے لئے چھوڑ کر قادیان دارالامان میں سکونت اختیار کر لی۔حضرت حکیم الامت کا کتب خانہ اور حضرت مولانا مفتی محمد صادق کی ذاتی لائبریری سلسلہ کی طرف منتقل ہو چکے تھے۔ان کی درستی اور ترتیب کا کام آپ کے سپر د ہوا۔تائید الہی: حضرت شہزادہ صاحب پر ایک معاند سلسلہ احمدیہ مولوی عبد العزیز لدھیانوی نے فوجداری مقدمہ کیا مگر خدا تعالیٰ نے مدعی کے دل میں ایسا رعب ڈال دیا کہ اس نے مقدمہ چھوڑنے کے سوا چارہ نہ دیکھا۔حضرت اقدس کے سامنے اس کا ذکر ہوا تو آپ نے فرمایا کہ یہ تو آپ کی کرامت ظاہر ہوئی تو شہزادہ صاحب نے عرض کی کہ حضور یہ تمام ذلت اور نا کامیابی کے دکھ کی مار ہے جو فریق مخالف کو ہوئی جو صرف حضور کی دعا سے ہوئی۔ایران میں داعی الی اللہ کی حیثیت سے: حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے ایران میں دعوت الی اللہ کے لئے آپ کو منتخب فرمایا۔آپ ۱۲ جولائی ۱۹۲۴ء کو اپنے خرچ پر ایران کے لئے روانہ ہوئے۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے ایک رؤیا دیکھا کہ شہزادہ صاحب خانقاہ درویش میں حضرت مسیح موعود کے فارسی اشعار پڑھ کر سنا رہے ہیں اور تمام درویش اشعار سن کر وجد کی حالت میں جھوم رہے ہیں۔تہران پہنچنے پر آپ نے خانقاہ درویش کا پتہ لگایا۔دیکھا کہ وہاں بہت سے درویش بیٹھے ہیں۔سلام مسنون کے بعد آپ نے حضرت اقدس کے اشعار پڑھنے شروع کر دیئے۔درویش یہ اشعار سن کر جھومنے لگے۔جب اشعار ختم ہوئے تو دعوت الی اللہ کی اور دعوت الامیر کے پچاس نسخے جو آپ کے پاس تھے تقسیم کر دیئے۔آپ نہایت تنگدستی میں فریضہ تبلیغ سرانجام دیتے رہے۔وفات : آپ فروری ۱۹۲۸ء کو تہران میں ہی فوت ہو گئے اور شہر کے جنوبی طرف چھوٹے سے قبرستان میں دفن کئے گئے۔۱۹۵۳ء تک آپ کا مزار مبارک موجود تھا مگر اس کے بعد قبرستان ہموار کر کے عمارتیں تعمیر کر دی گئیں۔آپ کی وصیت نمبر ۱۸۲۰ ہے۔آپکا کتبہ یادگار بہشتی مقبرہ قادیان میں ہے۔ماخذ : (۱) ازالہ اوہام روحانی خزائن جلد نمبر ۳ حصہ دوم (۲) آسمانی فیصلہ روحانی خزائن جلد نمبر ۶ (۳) آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد نمبر ۵ (۴) مضمون ” حضرت شہزادہ عبدالمجید لدھیانوی از ماہنامہ انصار اللہ کئی وجون ۲۰۰۰ء (۵) تاریخ احمدیت جلد ہشتم۔