تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا

by Other Authors

Page 329 of 379

تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 329

329 طرح پھیلنے والی ہے۔میرا ایمان ہے کہ بڑے خوش قسمت وہ لوگ ہیں جن کے تعلقات اس آدم کے ساتھ ہوں گے کیونکہ اس کی اولاد میں اس قسم کے رجال اور نساء پیدا ہونے والے ہیں جو خدا تعالیٰ کے حضور میں خاص طور پر منتخب ہو کر اس کے مکالمات سے مشرف ہوں گے مبارک ہیں وہ لوگ۔66 ( حقائق الفرقان جلد دوم صفحه ۴ ) حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے صحابہ حضرت محمود کے جذبہ ایثار وفدائیت کی مثال دیتے ہوئے فرمایا: حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں کئی لوگ ایسے تھے جنہیں قادیان میں صرف دو تین دفعہ آنے کا موقعہ ملا اور انہوں نے اپنے دل میں یہ سمجھا کہ خدا تعالیٰ نے بڑا فضل کیا کہ ہمارا قادیان سے تعلق پیدا ہو گیا۔مگر آج اس چیز کی اس قدر اہمیت ہے کہ ہماری جماعت میں سے کئی لوگ ہیں جو حضرت مسیح موعود کا زمانہ یا دکر کے بڑی خوشی سے یہ کہنے کے لئے تیار ہو جائیں گے کہ کاش ہماری عمر میں سے دس یا بیس سال کم ہو جاتے لیکن ہمیں زندگی میں صرف ایک دفعہ حضرت مسیح موعود کو دیکھنے کا موقعہ مل جاتا۔حضرت مسیح موعود کا زمانہ تو گزر گیا اب آپ کے خلفاء اور صحابہ کا زمانہ ہے مگر یاد رکھو کچھ عرصہ کے بعد ایک زمانہ ایسا آئے گا جب چین سے لے کر یورپ کے کناروں تک لوگ سفر کریں گے اس تلاش ، اس جستجو اور اس دھن میں کہ کوئی شخص انہیں ایسا مل جائے جس نے حضرت مسیح موعود سے بات کی ہومگر انہیں کوئی ایسا شخص نہیں ملے گا۔پھر وہ کوشش کریں گے کہ انہیں کوئی ایسا شخص مل جائے جس نے حضرت مسیح موعود سے بات نہ کی ہو، آپ سے مصافحہ نہ کیا ہو صرف اس نے آپ کو دیکھا ہی ہو مگر انہیں ایسا بھی کوئی شخص نظر نہیں آئے گا۔پھر وہ تلاش کریں گے کہ کاش انہیں کوئی ایسا شخص مل جائے جس نے گو حضرت مسیح موعود سے بات نہ کی ہو، آپ سے مصافحہ نہ کیا ہو، آپ کو دیکھا نہ ہو مگر کم از کم وہ اس وقت اتنا چھوٹا بچہ ہو کہ حضرت مسیح موعود نے اس کو دیکھا ہو مگر انہیں ایسا بھی کوئی شخص نہیں ملے گا لیکن آج ہماری جماعت کے لئے موقعہ ہے کہ وہ ان برکات کو حاصل کرے۔“ (الفضل ۱۵ را پریل ۱۹۴۴ء صفحه ۳-۴) سید نا حضرت خلیفہ امسیح الثانی فرماتے ہیں : را غور کر تم پراللہ تعال نے کتنا ض کیا کہ اپنا ہی تمہیں کھایا، پھر دنیا پر نہیں کیا اترام نہیں آتا کہ مسیح موعود کے صحابہ ہی اسے دکھا دو۔پچاس ساٹھ سال کے بعد یہ ہم میں نہیں ہوں گے۔غور کرو یہ کتنا بڑا ظلم ہے کہ ہم دنیا کو جا کر جب آپ کا پیغام سنائیں اور لوگ پوچھیں کہ وہ کہاں ہیں تو ہم کہہ دیں وہ فوت ہو گئے اور جب وہ پوچھیں کہ وہ کون لوگ ہیں جو آپ کے ہاتھ پر ایمان لائے تھے تو کہہ دیں کہ وہ بھی فوت ہو گئے۔مجھے یہ واقعہ بھی نہیں بھولتا، میں جب انگلستان میں گیا تو وہاں ایک بوڑھا انگریز نو مسلم تھا، اسے علم تھا کہ میں حضرت مسیح موعود کا بیٹا اور خلیفہ ہوں مگر پھر بھی وہ نہایت محبت اور اخلاص سے کہنے لگا کہ میں ایک بات پوچھتا ہوں آپ ٹھیک جواب دیں گے؟ میں نے کہا ہاں ! وہ کہنے لگا۔کیا حضرت مسیح موعود