تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا

by Other Authors

Page 330 of 379

تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 330

330 نبی تھے؟ میں نے کہا ہاں ! تو اس نے کہا اچھا مجھے اس سے بڑی خوشی ہوئی۔پھر کہنے لگا آپ قسم کھا کر بتا ئیں کہ آپ نے انہیں دیکھا؟ میں نے کہا ہاں میں ان کا بیٹا ہوں۔اس نے کہا۔نہیں میرے سوال کا جواب دیں کہ ان کو دیکھا ! میں نے کہا ہاں دیکھا تو وہ کہنے لگا کہ اچھا میرے ساتھ مصافحہ کریں اور مصافحہ کرنے کے بعد کہا مجھے بڑی ہی خوشی ہوئی کہ میں نے اس ہاتھ کو چھوا جس نے مسیح موعود کے ہاتھوں کو چھوا تھا۔اب تک وہ نظارہ میرے دل پر نقش ہے۔مجھے اس خیال سے بھی گھبراہٹ ہوتی ہے کہ وہ لاکھوں انسان جو چین، جاپان، روس، افریقہ اور دنیا کے تمام گوشوں میں آباد ہیں اور جن کے اندر نیکی اور تقویٰ ہے ان کے دلوں میں خدا کی محبت ہے مگر ان کو ابھی وہ نور نہیں ملا ہم ان تک حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا پیغام پہنچا ئیں اور وہ خوشی سے اُچھلیں اور کہیں کہ ہمیں حضرت مسیح موعود دکھلا ؤ اور جب ہم کہیں کہ وہ فوت ہو گئے تو وہ پوچھیں کہ اچھا ان کے شاگرد کہاں ہیں تو ہم انہیں کہیں کہ وہ بھی فوت ہو گئے تو وہ پوچھیں کہ اچھا ان کے شاگرد کہاں ہیں تو ہم انہیں کہیں کہ وہ بھی فوت ہو گئے ، احمدیوں کا یہ جواب سن کر وہ لوگ کیا کہیں گے۔حضرت مسیح موعود کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے اس کا یہ مطلب نہیں کہ کپڑوں میں برکت زیادہ ہوتی ہے بلکہ اس میں بتایا ہے کہ جب انسان نہ ملیں گے تو لوگ کپڑوں سے ہی برکت ڈھونڈیں گے ورنہ انسان کے مقابلہ میں کپڑے کی کیا حیثیت ہوتی ہے وہ کپڑا جو جسم کو لگا اس ہاتھ سے زیادہ حیثیت نہیں رکھ سکتا جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ہاتھ میں گیا اور وہیں پیوست ہو گیا ، آپ سے نور اور برکت لی اور آپ کے نور میں اتنا ڈوبا کہ خود نور بن گیا کبھی ممکن نہیں کہ ایسے ہاتھ کو چھونے سے تو برکت نہ ملے اور کپڑوں کو چھونے سے ملے۔کپڑوں سے برکت ڈھونڈنے سے مراد یہ ہے کہ ایک وقت ایسا آئے گا جب لوگ آپ سے ملنے والوں کو ڈھونڈیں گے اور جب کوئی نہ ملے گا تو کہیں گے اچھا کپڑے ہی سہی اور جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے بتایا ہے کہ ایک وقت آئے گا کہ بادشاہ بھی آپ کے کپڑوں کے لئے ترسیں گے۔پس براہ راست حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو چھونے والے انسان ہمیشہ نہیں رہ سکتے۔۔66 ( الفضل ۱۷ را پریل ۱۹۳۵ ، صفحہ ۷ ) یقیناً اصحاب صدق وصفا ، جماعت آخرین کے مصداق ہیں ، صدق سے بھری ہوئی روحیں نور اخلاص سے مزین، قربانی اور جانفشانی کا اعلیٰ نمونہ اسلام کا جگر اور دل“ کہلانے کا استحقاق رکھتے ہیں اور فی الواقع ایک صاحب فراست سمجھ لے گا کہ یہ خدا کا ایک معجزہ ہے جو ایسے اخلاص ان کے دل میں بھر دئیے۔ان کے چہروں پر ان کی محبت کے نور چمک رہے ہیں۔“ (روحانی خزائن جلدا اصفحه ۳۱۵)