تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 328
328 اصحاب صدق وصفا کی عظیمہ خدا تعالیٰ نے اپنے خاص احسان سے یہ صدق سے بھری ہوئی روحیں مجھے عطا کی ہیں“ سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود و مہدی معہود علیہ السلام کی آمد سے اس مبارک دور کا آغاز ہوا جس سے دین حق کا غلبہ مقدر تھا۔آپ کے ذریعہ ایک عظیم روحانی تغیر بر پا ہوا۔جس کا اشارہ وَأَخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوْا بِهِمْ مِیں ہے اور جامع بخاری کی حدیث کے مطابق حضرت ابو ہریرہ کے دریافت کرنے پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے آخرین کی جماعت کو اپنے صحابہ کرام کا مثیل قرار دیا۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے رفقاء کی عظمت کے بارہ میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے صدق سے بھری ہوئی روحیں مجھے عطا فرمائی ہیں۔فرمایا: میں اس بات کے اظہار اور اس کے شکر کے ادا کرنے کے بغیر نہیں رہ سکتا کہ خدا تعالیٰ کے فضل وکرم نے مجھے اکیلا نہیں چھوڑا۔میرے ساتھ تعلق اخوت پکڑنے والے اور اس سلسلہ میں داخل ہونے والے جس کو خدا تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے قائم کیا ہے۔محبت اور اخلاص کے رنگ سے ایک عجیب طرز پر رنگین ہیں۔نہ میں نے اپنی محنت سے بلکہ خدا تعالیٰ نے اپنے خاص احسان سے یہ صدق سے بھری ہوئی روحیں مجھے عطا کی فتح اسلام روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۳۵) ہیں۔وو انجام آتھم میں اپنے مخلص رفقاء کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: پس میں یقیناً جانتا ہوں کہ اس قدر بنی آدم کی توبہ کا ذریعہ جو مجھ کو ٹھہرایا گیا یہ اس قبولیت کا نشان ہے جو خدا کی رضامندی کے بعد حاصل ہوتی ہے اور میں دیکھتا ہوں کہ میری بیعت کرنے والوں میں دن بدن صلاحیت اور تقوی ترقی پذیر ہے۔گویا ہماری جماعت میں ایک اور عالم پیدا ہو گیا ہے۔میں اکثر کو دیکھتا ہوں کہ سجدہ میں روتے اور تہجد میں تضرع کرتے ہیں۔نا پاک دل کے لوگ ان کو کافر کہتے ہیں اور وہ اسلام کا جگر اور دل ہیں۔ہماری ہندوستان کے شہروں کی مخلص جماعتیں وہ نو را خلاص اور محبت اپنے اندر رکھتی ہیں کہ اگر ایک با فراست آدمی ایک مجمع میں ان کے منہ دیکھے تو یقینا سمجھ لے گا کہ یہ خدا کا ایک معجزہ ہے جو ایسے اخلاص ان کے دل میں بھر دئیے۔اُن کے چہروں پر اُن کی محبت کے نور چمک رہے ہیں وہ ایک پہلی جماعت ہے جس کو خدا صدق کا نمونہ دکھلانے کے لئے تیار کر رہا ہے۔“ رت خلیفة المسیح الاول رنة ول رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: حضرت انجام آتھم روحانی خزائن جلدا اصفحه ۳۱۵) ”ہماری خوش قسمتی ہے کہ خدا تعالیٰ نے ہمارے امام کو بھی آدم کہا کہ اس آدم کی اولا د بھی دنیا میں اس