تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا

by Other Authors

Page 287 of 379

تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 287

287 ☆ ۲۵۷۔حضرت مولوی دوست محمد صاحب لون میانی بیعت : ۲۷/ دسمبر ۱۸۹۱ء تعارف: حضرت مولوی دوست محمد رضی اللہ عنہ لون میانی بھیرہ کے متوطن تھے۔آپ جموں میں محکمہ پولیس میں ملازم بھی رہے۔آپ کے والد صاحب کا نام حکیم غلام احمد تھا آپ کی قوم قریشی تھی۔نیروبی ( مشرقی افریقہ ) جب ابھی آباد ہورہا تھا تو آپ وہاں چلے گئے۔حضرت اقدس کی بیعت: جہلم سے آپ ایک دفعہ لاہور آئے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مخالفت ان دنوں زوروں پر تھی۔ایک مخالف مولوی سے ( جبکہ اس کی مسجد میں آپ ٹھہرے ہوئے تھے ) آپ نے سنا کہ (نعوذ باللہ ) حضرت مرزا صاحب کو کوڑھ ہے اور ان کے ہاتھ دیکھے نہیں جا سکتے۔جب وہ قادیان پہنچے اور مسجد مبارک میں گئے تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس وقت مسجد میں تشریف فرما تھے اور نماز کے بعد احباب کے دائرہ میں سورج کی طرح ایک نورانی وجود نظر آتے تھے اور آپ بات کرتے تو ہاتھ کو کسی وقت اٹھاتے کسی وقت اس کو حرکت دیتے۔آپ خاموش یہ نظارہ دیکھتے رہے اور حضور کے ہاتھوں کو بھی دیکھا لیکن وہ تو بہت خوبصورت ، پیارے اور دلکش تھے۔ان پر کوئی دھبہ تک بھی نہ دیکھا۔اسی مجلس میں آپ نے بیعت کر لی اور حضور کے غلاموں میں داخل ہو گئے۔آپ نے ۲۷ / دسمبر ۱۸۹۱ء میں بیعت کی۔رجسٹر بیعت اولی میں آپ کا نام ۱۸۶ نمبر پر درج ہے۔حضرت اقدس پر پروانہ وار فدا تھے۔آپ کافی عرصہ حضرت مسیح موعود کی خدمت میں حاضر رہے۔اس وقت بھی حضوڑ کے ساتھ ہی تھے جب لیکھرام پیشاوری نے حضور کو بار با رسلام کیا اور حضور نے جواب نہ دیا۔حضرت مولانا جلال الدین شمس صاحب نے حضرت اقدس کے معاصر علماء میں آپ کا تذکرہ کیا ہے۔جنہوں نے حضرت اقدس کی بیعت کر لی۔اولاد: قریشی عبدالرحمن آپ کے بیٹے تھے۔ماخذ: (۱) تاریخ احمدیت جلد هشتم صفحه ۲۷۵ (۲) مضمون محترم قریشی عبدالرحمن صاحب مرحوم آف نیروبی کی یاد میں از الفضل ربوہ مورخہ ۲ جون ۱۹۶۷ء (۴) رجسٹر بیعت اولی تاریخ احمدیت جلد اصفحہ ۳۵۷ (۵) تاریخ احمدیت جلد سوم (۶) کیفیات زندگی از مولانا شیخ مبارک احمد مرحوم (۷) صداقت حضرت مسیح موعود تقریر جلسہ سالانہ ۱۹۶۴ء