تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 286
286 ساکن دہلی اور عمر پانزدہ سال ہے۔دینی خدمات : آپ تین سال کے لئے جزائر انڈیمان میں بطور ہیڈ ماسٹر رہے اہل وعیال کو بھی ساتھ بھجوایا گیا۔اس بنیاد پر آپ کالے پانی والے بھی مشہور ہوئے تھے۔حضرت اقدس کی کتب میں ذکر: تحفہ قیصریہ میں جلسہ ڈائمنڈ جوبلی میں شرکت اور چندہ دہندگان اور کتاب البریہ میں پُر امن جماعت میں ذکر ہے۔اولاد: آپ کے بیٹے ڈاکٹر سردار نذیر احمد مرحوم اور سردار بشیر احمد مرحوم انجینئر کا ذکر آپ کی اولاد میں نمایاں ہے۔سردار بشیر احمد مرحوم ربوہ کی تعمیر کے وقت کا سروے کرنے والی ٹیم کے سربراہ بھی رہے۔آپ کی ایک پوتی ( سردار ڈاکٹر نذیر احمد مرحوم کی بیٹی) مکرم انجینئر محمود مجیب اصغر صاحب بھیرہ امیر ضلع اٹک کی بیگم ہیں۔حضرت شیخ صاحب کے ایک پوتے سردار رفیق احمد مرحوم لندن میں مقیم تھے۔ماخذ: (۱) رجسٹر بیعت از تاریخ احمدیت جلد ا صفحه ۴ ۳۵ (۲) تحفہ قیصریہ روحانی خزائن جلد ۱۲ (۳) کتاب البریہ روحانی خزائن جلد ۱۳ (۴) مضمون ماسٹر عبدالرحمن سابق مہر سنگھ از الفضل ۲۳ دسمبر ۱۹۹۰ء (۴) اصحاب احمد جلد ہفتم۔۶ ۲۵۔حضرت مولوی سردار محمد صاحب لون میانی بیعت : ۹ / جنوری ۱۸۹۲ء تعارف: حضرت مولوی سردار محم ولد مولوی غلام احمد صاحب لون میانی ضلع شاہپور کے رہنے والے تھے۔آپ مولانا حکیم نورالدین حضرت خلیفہ اسی الاول کے برادر زادہ تھے۔بیعت : آپ نے ۹ / جولائی ۱۸۹۲ء میں بیعت کی رجسٹر بیعت میں آپ کا نام ۱۹۱ نمبر پر درج ہے۔میاں سردار خان ولد مولوی غلام احمد صاحب برادرزاده مولوی حکیم نورالدین ساکن لون میانی تحریر ہے۔حضرت اقدس سے تعلق اخلاص: ایک دفعہ آپ نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں خط لکھا اور اظہار اخلاص میں لکھا کہ میں قادیان پر قربان جاؤں۔حضرت اقدس اس پر بہت خوش ہوئے اور فرمایا کہ یہ اخلاص کی علامت ہے۔جب انسان کسی کے ساتھ سچا اخلاص رکھتا ہے تو محبوب کے قرب وجوار بھی پیارے لگتے ہیں۔“ حضرت مولانا جلال الدین شمس صاحب نے حضرت اقدس کے ان معاصر علماء میں آپ کا تذکرہ کیا ہے جنہوں نے حضرت اقدس کی بیعت کر لی۔حضرت اقدس کی کتب میں ذکر : کتاب البریہ میں حضرت اقدس نے پرامن جماعت میں آپ کا ذکر کیا ہے۔نوٹ: آپ کے مزید تفصیلی حالات نہیں مل سکے۔ماخذ: (۱) کتاب البریہ روحانی خزائن ۱۳ (۲) ذکر حبیب صفحه ۱۶۶ (۳) رجسٹر بیعت اولی مطبوعہ تاریخ احمدیت جلد اصفحہ ۳۵۷ (۴) شجرہ نسب مطبوعہ کلام امیر۔