تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 288
288 ☆ ۲۵۸۔حضرت مولوی حافظ محمد صاحب بھیرہ - حال کشمیر بیعت: ابتدائی زمانہ میں تعارف و بیعت : حضرت مولوی حافظ محم رضی اللہ عنہ بھیرہ کے رہنے والے تھے۔آپ کے والد صاحب کا نام مولوی سلطان احمد صاحب تھا جو حضرت خلیفہ اسیح الاوّل کے سب سے بڑے بھائی تھے۔” تاریخ احمدیت جموں و کشمیر ، صفحہ ۷ اپر حضرت مولوی حافظ محمد صاحب بھیرہ۔حال کشمیر کا نام رفقاء حضرت اقدس بانی سلسلہ احمدیہ میں درج کیا ہے لیکن مؤلف تاریخ احمدیت جموں و کشمیر کو اس کتاب کے صفحہ ۱۹ کے نوٹ کے مطابق ، حالات نہیں مل سکے۔تاریخ احمدیت بھیرہ میں بھی مؤلف نے صرف نام درج کیا ہے۔آپ کی بیعت ابتدائی زمانہ کی ہے۔جنہوں نے حضرت اقدس کی بیعت کی تھی۔حضرت مولانا جلال الدین شمس نے آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بیعت کرنے والے علماء میں شمار کیا ہے۔ماخذ : (۱) ضمیمه انجام آنقم روحانی خزائن جلد ۱۱ (۲) تاریخ احمدیت جلد سوم صفحه ۲۱ ۲۲ (۳) تاریخ احمدیت جموں وکشمیر (۴) تاریخ احمدیت بھیرہ (۵) صداقت حضرت مسیح موعود تقریر جلسه سالانه ۱۹۶۴ء (۶) شجرہ نسب مطبوعہ کلام امیر۔☆ ۲۵۹۔حضرت مولوی شیخ قادر بخش صاحب احمد آباد ولادت : ۱۸۵۲ء۔بیعت : ۱۸۹۲ء۔وفات : ۱۹۰۶ء تعارف و بیعت حضرت مولوی شیخ قادر بخش رضی اللہ عنہ احمد آباد (جہلم) نزد بھیرہ ( دریائے جہلم کے دوسری جانب) کے رہنے والے تھے۔حضرت حکیم مولانا مولوی نورالدین کے محبوں میں سے تھے۔اوائل میں ہی احمدیت قبول کرنے کا شرف حاصل کیا۔آپ ۱۸۹۲ء کے جلسہ سالانہ میں شریک ہوئے اور ہجرت کر کے قادیان چلے گئے۔حضرت اقدس کی کتب میں ذکر : حضرت اقدس نے آئینہ کمالات اسلام میں جلسہ سالانہ ۱۸۹۲ء کی فہرست میں ۳۳ نمبر پر آپ کا نام درج فرمایا ہے۔جہاں حکیم شیخ قادر بخش احمد آباد ضلع جہلم تحریر کیا ہے۔کتاب البریہ میں پُر امن جماعت کے ضمن میں ذکر فرمایا ہے۔وفات: آپ ابتداء میں ہی ہجرت کر کے قادیان چلے گئے تھے اور وہیں ۱۹۰۶ء میں وفات ہوئی اور بہشتی مقبرہ قادیان میں تدفین ہوئی۔ماخذ : (۱) آئینہ کمالات اسلام (۲) کتاب البریہ روحانی خزائن جلد ۱۳ (۳) بھیرہ کی تاریخ احمد بیت صفحہ ۱۱۸