تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا

by Other Authors

Page 7 of 379

تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 7

7 دیا۔عرصہ دراز کے بعد وطن کی محبت نے شیخ کو پھر ستایا۔شہزادہ علاؤالدین کی کوششوں سے اسفرائن واپس چلے گئے اور پھر ۸۴۴ ھ میں راہی ملک عدم ہوئے۔قیام دکن جنوبی ہندوستان کے دوران آپ نے اپنی مشہور تصنیف ”جواہر الاسرار“ ۸۴۰ھ میں لکھی۔اُس زمانہ میں کتابوں کے اسی قسم کے نام رکھے جاتے تھے۔آپ سے قبل حضرت سید محمد حسینی الملقب به بنده نواز گیسو دراز قدس سره نے ایک کتاب ”اسماء الاسرار‘ تالیف فرمائی تھی۔شاید شیخ آذری نے اپنی تالیف ”جواہر الاسرار‘ کواُسی نام سے برکت کے لئے چن لیا اور کتاب فی الواقعہ با برکت ثابت ہوئی۔(۶) شیخ آذری کی دیگر تصنیفات، مثنوی ثمرات، عجائب الغرائب، سعى الصفا، مثنوی امامیه، تاریخ کعبه، طغریٰ ہمایوں، غریب الدنیا، عجائب الاعلاء، دیوان قصائد و غزلیات ہیں۔پہلے آپ شیخ محی الدین طوسی کے مرید ہوئے بعد میں حضرت شاہ نعمت اللہ ولی کے مرید ہو گئے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی کتاب انجام آتھم کے ضمیمہ صفحہ نمبر ۳۱۵ پر ( شیخ آذری) حضرت شیخ علی حمزہ بن علی ملک الطوسی کی کتاب ” جواہر الاسرار مؤلفہ ۸۴ھ میں مندرجہ حدیث کہ مہدی موعود کے پاس ایک چھپی ہوئی کتاب ہوگی جس میں اس کے تین سو تیرہ اصحاب کے نام درج ہوں گے۔“ کو اپنے حق میں پیشگوئی پوری ہونے کا ذکر فرمایا ہے۔اس کتاب ( خطی نسخہ) کی تصنیف کے بارے میں بوڈلین لائبریری آکسفورڈ برطانیہ کے کٹیلاگ سے متعلقہ حصہ یہاں نقل کرتے ہیں۔حضرت شیخ علی حمزہ بن علی بن ملک بن حسن الطوسی کی کتاب ” جواہر الاسرار" دراصل موصوف کی کتاب ” مفاتیح الاسرار" کا دوسرا ایڈیشن ہے بلکہ اُس سے مقتبس ہے جسے مفاتیح الاسرار سے ملک شام سے واپسی پر بطوررف پیکیج Rough) Package ) بمطابق ۱۴۲۷ ء - ۱۴۲۶ ء ) میں لکھا تھا۔کچھ عرصہ بعد احمد شاہ غازی ۸۲۵ ھ تا ۸۳۸ھ کے زمانہ میں آپ مکہ حج کے لئے گئے۔آپ کی واپسی پر آپ کے بہت سے دوستوں نے اس تصنیف کے نسخے تیار کرنے کے لئے درخواست کی۔آپ نے پہلے سے جمع کردہ مواد کو بطور نئے ایڈیشن کے شائع کرنے کا فیصلہ کیا جس میں آپ نے اُن علوم کا اضافہ کیا جو آپ نے اپنے سفروں بالخصوص عرب کے سفر سے حاصل کئے تھے لیکن بہت اختصار کے ساتھ۔آپ نے اسے رجب ۸۴۰ھ (بمطابق جنوری ۱۴۳۷ء) میں مکمل کیا جس کا نام ” مفاتیح الاسرار رکھا جسے بعد میں ”جواہر الاسرار“ کا نام دیا گیا۔دونوں تصانیف کی ترتیب ایک سی ہے۔دونوں چار ابواب پر مشتمل ہیں۔پہلے ایڈیشن میں چاروں ابواب کے عنوان حسب ذیل ہیں۔معرفت فواتح کلام الله تعالیٰ شانه مشکلات احادیث نبوی صلی الله عليه وسلم بیان مرموزات کلام مشائخ رضوان الله عليهم