تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 8
8 O۔۔۔۔تبيين الكلام مغلق شعراء اسلام ادام الله بركات معانيهم " مفاتیح الاسرار" کے نظر ثانی شدہ ایڈیشن ” جواہر الاسرار کے مندرجات درج ذیل ہیں : مصنف کا دیباچہ اور انڈیکس صفحہ نمبر 4 الف پر ہے۔باب اوّل:در اسرار فواتح کلام اللہ تعالیٰ یا انڈیکس کے مطابق در معرفت مقطعات از قرآن جس میں نو اسرار کا بیان ہے۔باب دوم: در بیان اسرار احادیث نبوی۔جس میں نو اسرار کا بیان ہے۔باب سوم: در اسرار کلام مشائخ۔یہ دوابواب پر مبنی ہے۔باب چهارم : در اشکال کلام ، شعر یا انڈیکس کے مطابق در بیان کلام شعرا جو دس ابواب پر مشتمل ہے۔(۷) آکسفورڈ کے جس کیٹلاگ کا ذکر کیا گیا وہ خطی نسخوں سے متعلق ہے۔اس سلسلہ میں کچھ امور خطی یا قلمی نسخوں یا مخطوطات کے بارہ میں تحریر ہیں۔حضرت شیخ علی حمزہ کی کتاب ”جواہر الاسرار کا حوالہ حضرت مسیح موعود کے پاس حضرت مرزا خدا بخش صاحب کے ذریعہ پہنچا۔(۹) جسے حضور نے انجام آتھم میں درج فرمایا۔اس کتاب کے جو خطی نسخے سامنے آئے ہیں۔اُن کا ذیل میں اجمالی تعارف دیا جاتا ہے۔(۱) خطی نسخه زیر استعمال حضرت مسیح موعود : حضرت مسیح موعود نے شیخ علی حمزہ کی کتاب ”جواہر الاسرار کا حوالہ دیتے ہوئے لفظ ”کتاب“ کا اندراج فرمایا ہے۔آپ نے یہ صراحت نہیں فرمائی کہ یہ ایک مطبوعہ کتاب ہے یا خطی نسخہ ہے۔مکرم ملک سیف الرحمن صاحب مفتی سلسلہ احمدیہ نے جواہر الاسرار“ کو اپنی کتاب ”حدیقۃ الصالحین“ کے صفحہ ۹۰۴ پر بطور قلمی نسخہ کے اندراج کیا ہے اور مذکورہ کتاب کا صفحہ نمبر ۵۶ زیر نظر حوالے کا مقام درج کیا ہے۔اس کے ساتھ اشارات فریدی جلد ۳ صفحہ سے مطبوعہ مفید عام پریس آگرہ کا حوالہ بھی دیا ہے۔(۸) (۲) نسخه برٹش لائبریری لندن : یہ نسخہ سلطان فتح علی ٹیپو شہید کے کتب خانہ کا مجموعہ جو ہزار کتب تاریخ و سوانح شعر وسخن علم الالسنہ، دینیات، فلسفه، کیمیا، طبیعات، تصوف، فقص لغت قانون ، مصوری اور فن حرب پر مشتمل جیسے ۱۸۳۸ء میں اس لائبریری کے ساتھ یہ نسخہ جواہر الاسرار انتخاب مفتاح الاسرار علی حمزہ اور تواریخ مشائخ برٹش میوزیم میں موجود تھا۔اسے بعد میں برٹش لائبریری میں منتقل کر دیا گیا۔لائبریری میں اس کا کیٹلاگ نمبر 7607-ADD ہے جو ۹ ۱۸۷ء میں لکھا گیا۔اس نسخہ کے ۲۲۶ صفحات ہیں۔لمبائی چوڑائی ۱/۲ ۱۹ اینچ ۱/۲ - ۵ اینچ ایک صفحہ پر ۱۹ لائنیں ہیں ایک لائن کی لمبائی ۱/۷-۳ انچ ہے۔لکھائی خوبصورت نستعلیق خط میں ہے۔جس پر حاشیہ سنہری ہے۔یہ نسخہ ۱۰۳۴ھ ذوالحج بمطابق ۱۶۱۴ء میں تیار کیا گیا ہے۔جسے محمد حسین الطبرانی نے نقل کیا ہے۔(۹) (۳) نسخه کتاب خانه گنج بخش ( اول ) اسلام آباد : صفحات ۳۴۸- کاغذ نازک سمرقندی جو کہ بوسیدہ ہو چکا ہے۔چمڑے کی