تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 6
6 Haft Iklim Riyazush-Shuara Khizanah-i-Amirah Oude Catalogue Hammer, schöne Redekünste Firishtah ہفت اقلیم ۳۲۵ صفحه رياض الشعراء ۴۲ صفحه خزانہ عامرہ ۱۲ صفحه ۲۳۲ ایڈیشن ۳۱۵ صفحه 81920 ۳۰۰ صفحه فرشته ۲۹۹ صفحه ۵۴۱ ایڈیشن تاریخ فرشتہ نے شیخ آذری کی زندگی کا پورا احوال درج کیا ہے جس میں بہمنی دربار میں حاضری کے حالات بھی دیئے گئے ہیں۔(۴) یہ اقتباس آپ کے مترجم کرنل برگس Col۔Briggs نے بغیر توجہ دیے چھوڑ دیئے ہیں۔آپنے کتاب کے دیباچے میں تحریر کیا ہے کہ ۸۳۰ ء ھ میں ملک شام (Syria) سے واپسی پر آپ نے اس موضوع پر تصنیف کی جس کا نام مفتاح الاسرار تھا۔ہندوستان میں قیام کے دوران ، احمد شاہ غازی ( یعنی احمد شاہ بہمنی ۸۲۵ھ تا ۸۳۸ھ) کے دارالخلافہ میں، جبکہ آپ دوسرے حج کی تیاریوں میں مصروف تھے۔آپ کے بہت سے دوستوں نے کتاب لینے کی درخواست کی وہ آپ سے اسے حاصل کرنے کے مشتاق تھے۔جب آپ گھر واپس لوٹے تو اپنے احباب کے پر زور اصرار کے پیش نظر اس تصنیف کو دوبارہ اور زیادہ اختصار سے لکھا۔چند سوانحی حالات ( جو اولیائے کرام سے متعلق تھے جنہیں آپ نے اپنے سفروں کے دوران اکٹھا کیا تھا) کا اضافہ کیا۔دیباچہ پر تاریخ ۸۴۰ ھ درج کی ہے۔جواہرالاسرار اپنے نقش اول کے مطابق چار ابواب میں منقسم ہے یعنی :۔(۱) قرآن کریم میں حروف مقطعات (Detached Letters) کے اسرار ورموز کے بارے میں، (صفحہ نمبر ۹) (۲) احادیث یا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال کے اسرار ورموز (صفحہ ۵ اب) (۳) نثر نظم میں مشائخ کے اقوال کے اسرار ورموز (صفویه ۵ ب) (۴) شعراء کے اشعار کے اسرار ورموز (صفحہ ۷۳اب) اس تصنیف کا ذکر سٹیوریٹ (Stewart) کے کیٹلاگ کے صفحہ ۳۸ پر کیا گیا ہے۔آپ کے دیوان کتاب غرائب الدنیا کا اندراج سینٹ پیٹر برگ (S۔Peters Bargh) کے کیٹلاگ صفحہ نمبر ۳۹۹ پر ہے۔اس طرح کو پن ہیگن Copen Hagen) کے کیٹلاگ کے صفحہ نمبر ۴۰ پر بھی ہے۔(۵) سلطان احمد شاہ کی درخواست پر شیخ آذری ( حضرت علی حمزہ بن علی ملک بن حسن الطوسی) نے خاندان بہمنیہ کے حالات بہن نامہ“ کے نام سے لکھنے شروع کئے۔آپ سلطان احمد شاہ کے عہد تک حالات قلمبند کر چکے تھے۔تب واپس جانے کی اجازت مانگی سلطان احمد شاہ نے کہا کہ حضرت سید بندہ نواز گیسو دراز (۱۳۲۱ء۔۱۴۲۲ء) کے وصال کے بعد جو خلا پیدا ہو گیا ہے۔اس کو تم نے کسی حد تک پُر کر دیا ہے۔اب اس طرح جدا ہو کر جانے سے بہت تکلیف ہوگی۔شیخ آذری نے بادشاہ کو اتنا مہربان اور مخلص پایا تو اپنی اولاد کو بھی یہیں بلا لیا۔سلطان احمد شاہ نے آپ کو ملک الشعراء کا خطاب