تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا

by Other Authors

Page 276 of 379

تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 276

276 الحق صاحب نعمانی نے اپنی کتاب میں درج فرمایا ہے اور اس میں حضرت شیخ صاحب کا بھی حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی مجلس میں آنے کا تذکرہ ہے: ایک روز کا ذکر ہے کہ حضرت اقدس علیہ السلام کو دوران سر ہوا میاں قطب الدین مرحوم ( یکے از ۳۱۳) ساکن کوٹلہ فقیر کو بلوایا اور میں پاس بیٹھا ہوا تھا۔آپ کا سرد بار ہا تھا۔فرمایا تیل لگا کر ہماری پنڈلیوں کی مالش کرو۔سر میں درد بہت ہے۔ہم دونوں آپ کی پنڈلیوں کی مالش کرنے لگے۔اس عرصہ میں شیخ نور احمد صاحب ضلع جالندھر کے رہنے والے آگئے۔وہ بھی آپ کی پنڈلیوں کی مالش میں شامل ہو گئے۔“۔نوٹ: آپ کے مزید حالات نہیں مل سکے۔ماخذ : (۱) رجسٹر بیعت اولی تاریخ احمدیت جلد اصفحه ۳۵۸ (۲) تذکرۃ المہدی صفحه ۵۲ (۳) تاریخ احمدیت جلد هشتم صفحہ ۳۲۱۔☆ ۲۴۳۔جناب منشی سرفراز خانصاحب۔جھنگ بیعت : ۱۸۹۱ء۔وفات ۱۹۴۵ء تعارف و بیعت : آپ ملہی خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔والد صاحب کا نام چوہدری حسین بخش ملہی تھا۔ضمیمہ انجام آتھم میں حضرت منشی سرفراز خاں صاحب آف جھنگ ذکر ہے۔آپ دراصل بدوملہی کے رہنے والے تھے۔مکرم ماسٹر محمد ابراہیم صاحب انصاری بیان کرتے ہیں کہ میں ان کے بیٹے مکرم چوہدری عبدالحق صاحب سے ایک دو بار سنا کہ جب میرے والد صاحب نے بیعت کی تو ہمارے دادا نے ان کی شدید مخالفت کی اور انہیں گھر سے نکال دیا اور آپ کچھ سالوں کے لئے چنیوٹ (جھنگ) میں ملازمت کرتے رہے۔اسی نسبت سے ان کے نام کے ساتھ جھنگ لکھا گیا۔بیعت کے بارہ حضرت مولوی قطب الدین صاحب بدوملہی یکے از تین سو تیرہ کا بیان کرتے ہیں : اس دوران میں ایک شخص مسمی چراغدین ٹھیکیدار اپنے کسی کام کے لئے بدوملہی آیا۔اس سے مجھے حضور علیہ السلام کی کتاب ”ازالہ اوہام علی اور بیعت کا علم ہوا چنانچہ میں اور بدوملہی کا بڑا نمبر دار ( حضرت چوہدری محمد سرفراز خان صاحب) قادیان آئے اور ہم دونوں نے مسجد مبارک میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیعت کی۔غالباً ۱۸۹۱ء۔حضور نے فرمایا کہ کچھ مدت یہاں رہیں اور فرمایا کہ بیعت کے بعد انسان کو پختہ ہو جانا چاہیئے کیونکہ بیعت سے پھرنے والے پر گرفت ہوتی ہے۔حضور کے اس فرمان سے میرے اندر استقلال پیدا ہو گیا اور کبھی تر در پیدا نہ ہوا۔“ الفضل لاہور ۹ جنوری ۱۹۴۹ صفحه ۶)