تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 275
275 ماخذ: (۱) آسمانی فیصلہ روحانی خزائن جلد ۲ (۲) حقیقة الوحی روحانی خزائن جلد ۲۲ (۳) کتاب البریہ روحانی خزائن جلد ۱۳ (۴) اخبار الحکم قادیان ۱۰ / اگست ۱۹۰۲ ۱۴ / جنوری ۱۹۳۵ء (۵) ملفوظات جلد دوم (۶) مضمون عالم روحانی کے لعل و جواہر ( نمبر ۱۷۹) از روزنامه الفضل ربوه مورخه ۳۰ /اکتوبر ۲۰۰۱ (۱) فهرست وفات یافتگان بہشتی مقبره ☆ ۲۴۱۔حضرت منشی عطا محمد صاحب چنیوٹ بیعت : ۱۸۹۵ء۔وفات ۱۹۰۹ء تعارف و بیعت : حضرت منشی عطا محمد رضی اللہ عنہ چنیوٹ کے مشہور وہرہ خاندان میں سے تھے۔آپ کے والد صاحب کا نام حافظ محمد حیات صاحب تھا۔آپ تا جر اور اشکام فروش تھے۔وفات : آپ نے ۱۹۰۹ء کو وفات پائی۔آپ کا وصیت نمبر ۱۹ ہے۔منشی صاحب محترم شیخ شمس الدین صاحب ولد شیخ حاجی عمر حیات صاحب کے خسر تھے۔آپ کی بیعت ۱۸۹۵ء کی ہے۔حضرت اقدس کی کتب میں ذکر : حضرت اقدس نے کتاب البریہ میں پُرامن جماعت میں آپ کا ذکر کیا ہے۔اولاد: آپ کی بیٹی حضرت اللہ جوائی صاحب صحابہ تھیں جو محترم شیخ شمس الدین کی اہلیہ تھیں جن سے ان کی دو بیٹیاں اور تین بیٹے تھے۔نوٹ : آپ کے مزید حالات معلوم نہیں ہو سکے۔ماخذ: (۱) کتاب البریہ روحانی خزائن جلد ۱۳ (۲) لاہور تاریخ احمدیت صفحہ ۳۶۶ (۳) سرزمین ربوہ اور اس کے ماحول کا تاریخی اور روحانی پس منظر الفضل ۲۱ ستمبر ۲۰۰۲ء (۴) اخبار بدر ۱۸ / فروری ۱۹۰۹۔☆ ۲۴۲۔حضرت شیخ نوراحمد صاحب جالندھر حال ممباسه بیعت یکم فروری ۱۸۹۲ء۔وفات ۲۹ جنوری ۱۹۳۶ء تعارف و بیعت : حضرت شیخ نور احمد رضی اللہ عنہ ولد غلام غوث جالندھر شہر کے رہنے والے تھے۔آپ نے یکم فروری ۱۸۹۲ء میں بیعت کی رجسٹر بیعت میں ۲۱۹ نمبر پر آپ کا نام درج ہے۔حضرت اقدس سے تعلق اخلاص : یہ ۱۸۹۷ء تصنیف ”انجام آتھم سے پہلے کا واقعہ ہے جسے حضرت پیر سراج