تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 184
184 ☆ ۱۳۳۔حضرت مولوی غلام حسین صاحب۔لاہور ولادت : ۱۸۴۲ء۔بیعت : ۱۸۹۱ء۔وفات: یکم فروری ۱۹۰۸ء تعارف و بیعت : حضرت مولوی غلام حسین رضی اللہ عنہ کا تعلق لاہور سے تھا۔آپ کی ولادت ۱۸۴۲ء کی ہے آپ کو میاں محمد شریف صاحب ریٹائر ڈالی۔اے سی نے دیکھا ہوا تھا۔اُن کا بیان ہے کہ موصوف دُبلے پتلے گورے رنگ کے تھے۔عمامہ باندھتے تھے۔قد درمیانہ تھا۔آپ گئی بازار والی مسجد کے امام اور متولی تھے۔آپ کی بیعت ۱۸۹۱ء کی ہے۔آسمانی فیصلہ میں آپ ان ۷۵ خوش نصیبوں میں شامل تھے جنہوں نے پہلے جلسہ سالانہ ۱۸۹۱ء میں شرکت کی تھی۔اوصاف حمیدہ: حضرت خلیفہ اسی الثانی رضی اللہ عن نے ایک فعہ بیان فرمایا کہ مولوی صاحب مرحوم ایک بڑے عالم اور نیک انسان تھے۔حضرت مسیح موعود کے رفقاء میں سے حضرت خلیفتہ اسیح الاول رضی اللہ عنہ اور مولوی صاحب گویا کتابوں کے کیڑے تھے۔حافظہ زبر دست تھا۔ایک دفعہ حضرت مولانا نورالدین کے سامنے آپ ایک صفحہ پر نظر ڈالتے اور اسے الٹ دیتے پھر دوسرے پر نظر ڈالتے اور اسے چھوڑ دیتے۔حضرت خلیفۃ اسیح الاول نے انہیں اس حالت میں دیکھ کر کہا کہ مولوی صاحب آپ کتاب پڑھیں تو سہی۔وہ کہنے لگے مجھ سے کوئی بات پوچھ لیں۔حضرت خلیفہ ایسی الاول کے پوچھنے پر آپ نے کتاب کا مضمون بتا دیا۔“ حضرت اقدس کی کتب میں ذکر : آپ کا ذکر آسمانی فیصلہ میں جلسہ سالانہ ۱۸۹ء کے شرکا ء اور کتاب البریہ میں پُر امن جماعت کے ضمن میں ذکر ہے۔وفات و تدفین : کتابوں کے شوق میں کلکتہ کسی کتاب کے لئے گئے اور وہیں سے بیمار ہو کر واپس آئے اور یکم فروری ۱۹۰۸ء کو فوت ہو گئے۔جب جنازہ قادیان لے کر گئے تو معتمدین نے اعتراض کیا کہ آپ موصی نہیں تھے تدفین بہشتی مقبرہ میں نہیں ہو سکتی۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کو علم ہوا تو حضور نے فرمایا ان کی وصیت کی کیا ضرورت ہے؟ وہ تو مجسم وصیت ہیں۔یہ ہوئے خلیفہ ہدایت اللہ لا ہوری ہوئے۔ایسے لوگوں کو ( وصیت کی ) کیا ضرورت ہے؟ آپ کا جنازہ حضرت مسیح موعود نے پڑھایا اور جنازہ کو کندھا دیا۔آپ کے اخلاص کا تذکرہ: حضرت مسیح موعود مسجد مبارک میں تشریف رکھتے تھے کہ انبیاء کے متبعین کا ذکر آیا۔حضور نے فرمایا کہ عام طور پر انبیاء کے ماننے والے ان سے کم عمر کے لوگ ہوتے ہیں۔بڑے بوڑھے بہت کم مانتے ہیں۔مگر مولوی غلام حسین لاہوری بابا ہدایت اللہ شاعر لاہوری یہ دونوں ہیں جو بڑے بوڑھے ہوکر ایمان لائے۔ماخذ : (۱) آسمانی فیصلہ روحانی خزائن جلد ۲ (۲) کتاب البریہ روحانی خزائن جلد ۱۳ (۳) لا ہور تاریخ احمدیت صفحه ۸۵ تا ۹۰