تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا

by Other Authors

Page 183 of 379

تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 183

183 سیٹھاں بالمقابل تالاب آب رسانی لنگے منڈی بازار لاہور کے امام الصلوۃ تھے۔میاں چراغ دین صاحب رئیس لاہور کے دادا میاں الہی بخش صاحب نے یہ مسجد بنوائی تھی اور مولوی صاحب کو امام الصلوۃ مقرر کیا تھا۔حضرت اقدس سے عقیدت اور بیعت : حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے جب بیعت لینے کا اعلان فرمایا تو حضور کے ساتھ عقیدت رکھنے کی وجہ سے بیعت پر آمادہ ہو گئے مگر بیعت کرنے سے قبل پرانے وفات یافتہ بزرگوں کے مزاروں پر جاتے تھے۔حضرت اقدس کے دعاوی کے متعلق استخارہ کیا تو جواب میں ایک ڈولا' پالکی آسمان سے اترتے دیکھا اور آپ کے دل میں خیال ہوا کہ حضرت مسیح آسمان سے اتر رہے ہیں۔جب پالکی کا پردہ اُٹھا کر دیکھا تو اس کے اندر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو پایا۔آپ نے حضرت اقدس کے بارہ میں دریافت کیا۔تصدیق ہونے پر پا پیادہ قادیان پہنچے اور جا کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا سلام پہنچایا اور بیعت کر لی۔رجسٹر بیعت اولی میں آپ کی بیعت ۲۵۲ نمبر پر ۳۰ /اگست ۱۸۹۱ء کی ہے۔کچھ زبانی روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے بیعت لدھیانہ میں کی تھی۔حضرت اقدس کی کتب میں ذکر : آسمانی فیصلہ میں جلسہ سالانہ کے شرکاء اور کتاب البریہ میں پُر امن جماعت کے ضمن میں آپ کا ذکر کیا ہے۔اوصاف حمیدہ: آپ بہت نیک اور متقی بزرگ تھے۔حضرت مرزا ایوب بیگ صاحب پروفیسر چیفس کالج لاہور آپ کے درس میں شامل ہوا کرتے تھے۔آپ کی مسجد میں حضرت مسیح موعود اور حضرت خلیفتہ المسیح الاول نے بھی نمازیں ادا کی ہیں۔حضرت مولوی صاحب حافظ قرآن بھی تھے۔اس زمانہ کے رواج کے مطابق غرارہ ( کھلے پائنچہ کا پاجامہ پہنا کرتے تھے۔آپ حضرت میاں عبد العزیز المعروف مغل کے استاد تھے۔وہ بیان کرتے ہیں کہ مولوی صاحب پہلے کثرت سے مثنوی مولانا روم پڑھا کرتے تھے مگر بالآخر قرآن مجید اس کثرت سے انہوں نے پڑھنا شروع کیا کہ جب بھی آپ کو دیکھا آپ تلاوت قرآن میں مشغول ہوتے۔مولوی صاحب کی چار بیویاں تھیں وہ ان کی وفات سے پہلے ایک ہی ماہ میں فوت ہو گئیں۔ان بیویوں سے آپ کی کوئی اولاد نہ تھی۔اہل اللہ سے بہت محبت تھی چنانچہ حافظ غلام رسول صاحب قلعہ والے اور مولوی عبداللہ غزنوی سے اکثر میل جول تھا۔وفات: آپ ۱۸۹۴ء میں بعمر ۸۰ سال وفات پاگئے۔ماخذ : (۱) آسمانی فیصلہ (۲) کتاب البریہ (۳) رجسٹر بیعت اولی مطبوعہ تاریخ احمدیت جلد اصفحہ ۳۵۶ (۴) لاہور تاریخ احمدبیت صفحه ۸۱ تا ۸۳ (۵) روزنامه الفضل ۲۵ / جنوری ۱۹۸۹ء مضمون مکرم عبدالعزیز صاحب ابن مکرم چراغ الدین صاحب (۶) اصحاب احمد جلد اول صفحه ۴۹ تا ۵۴