تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 180
180 ☆ ۱۲۹۔حضرت قاضی غلام مرتضی صاحب اکسٹرا اسٹنٹ کمشنر مظفرگر حال پنشنر بیعت : ۱۹ ستمبر ۱۸۸۹ء تعارف: حضرت قاضی غلام مرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے والد قاضی محمد روشن دین صاحب تھے۔آپ کا اصل وطن احمد پور سیال ضلع جھنگ تھا۔بیعت کے وقت آپ اکسٹرا اسٹنٹ کمشنر مظفر گڑھ تھے۔اس وقت آپ سکنہ قریہ دین پور نزد مظفر گڑھ میں مقیم تھے۔حضرت اقدس سے تعلق : آپ کا یہ تعلق براہین احمدیہ کے زمانہ سے ہے۔۱۸۷۰ کے عشرہ میں جب آپ مظفر گڑھ میں اکسٹرا اسٹنٹ کمشنر محکمہ بندو بست تھے تو آپ نے براہین احمدیہ کی پیشگی قیمت ارسال کر دی بیعت : آپ نے ۱۹ ستمبر ۱۸۸۹ء میں بیعت کی۔رجسٹر بیعت اولی میں آپ کی بیعت ۱۴۵ نمبر پر درج ہے۔حضرت اقدس نے کتاب البریہ میں آپ کا ذکر پُر امن جماعت کے ضمن میں فرمایا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے مکتوب ۲۵ فروری ۱۸۹۰ء بنام حضرت حکیم مولوی نورالدین صاحب (خلیفۃ المسیح الاول ) میں حضرت قاضی غلام مرتضی صاحب کا ذکر فرمایا ہے۔طبیعت اس عاجز کی بفضلہ تعالیٰ اب کسی قدر صحت پر ہے۔گھر میں بھی طبیعت اصلاح پر آگئی ہے۔میرا ارادہ تھا کہ اس حالت میں آپ کے دوست کے لئے چند روز بجد وجہد جیسا کہ شرط ہے توجہ کروں۔مگر افسوس که بباعث آمد قاضی غلام مرتضی کے میں مجبور ہو گیا۔وہ برابر دس روز تک اس جگہ رہیں گے چونکہ بہت خرچ اٹھا کر آئے ہیں اور دور سے خرچ کثیر کر کے آئے ہیں۔اس لئے بالکل نامناسب ہے کہ ان کی طرف توجہ نہ ہو۔پھر ان کے ساتھ ہی سیدا میر علی شاہ صاحب لاہور سے آنے والے ہیں وہ برابر پندرہ روز تک رہیں گے۔ان کے جانے کے بعد انشاء اللہ العزیز توجہ کامل کروں گا۔“ حضرت اقدس کی دعا سے اولاد: حضرت اقدس کی خدمت میں آپ نے اولاد کے لئے دعا کی درخواست کی اور عرض کی کہ چند نکاح کر چکا ہوں۔دعا کریں میرے اندھیرے گھر میں کوئی چراغ پیدا کرے۔مصنف عسل مصفی لکھتے ہیں۔اس پر حضرت فانی فی اللہ اُن کے لئے دعا کا خاص انتظام کر کے دعا کرنے لگے چند روز میں اللہ تعالیٰ سے الہام پا کر خبر دی کہ اللہ تعالیٰ بہت جلد آپ کو اولا د عطا کرے گا۔“ چنانچہ ایک لڑکا پیدا ہوا اس کے بعد اور بھی اولاد پیدا ہوئی۔ماخذ : (۱) کتاب البریہ روحانی خزائن جلد ۱۳ (۲) مکتوبات احمد یہ جلد پنجم نمبر ص ۷۶ (۳) رجسٹر بیعت اولی (۴) عسل مصفی جلد دوم ص ۵۵۹ (۵) انجام آنقتم روحانی خزائن جلدا (۱) رجسٹر روایات جلد سوم روایات حضرت چوہدری عبدالعزیز سیالکوٹی۔