تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا

by Other Authors

Page 181 of 379

تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 181

181 ☆ ۱۳۰۔حضرت مولوی عبد القادر خانصاحب جمالپور۔لودیانہ بیعت : ۲۴ / مارچ ۱۸۸۹ء تعارف: حضرت مولوی عبد القادر خان رضی اللہ عنہ موضع چنکن تحصیل لدھیانہ کے رہنے والے تھا۔آپ کے والد مامون خاں تھے۔آپ بسلسلہ ملازمت مدرس موضع جمال پور ضلع تحصیل لودھیا نہ میں مقیم تھے۔بیعت : رجسٹر بیعت اولی کے مطابق آپ نے ۲۴ مارچ ۱۸۸۹ء کو بیعت کی اور آپکی بیعت کا اندراج ۶۷ نمبر پر ہے۔آپ علماء کی مخالفت کے طوفان کے وقت ثابت قدم رہے بلکہ دعوت حق کرتے رہے اور اول المؤمنین میں داخل رہے۔ایک تھوڑی سے تنخواہ پر گزارہ تھا لیکن حضرت اقدس کی خدمت میں امداد بھجواتے تھے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے آپ کے بارے میں گلاب شاہ کی شہادت کے ذکر میں لکھا ہے اس کا اندراج ازالہ اوہام میں ہے۔حضرت اقدس کی کتب میں ذکر : آسمانی فیصلہ ازالہ اوہام ، آئینہ کمالات اسلام اور کتاب البریہ میں آپکا ذکر جلسه سالانه ۱۸۹ء و۱۸۹۲ء کے شرکاء اور چندہ دہندگان میں اور پُر امن جماعت کے ضمن میں کیا ہے۔ماخذ : (۱) آسمانی فیصلہ روحانی خزائن جلد ۲ (۲) آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد ۵ (۳) کتاب البریہ روحانی خزائن جلد ۱۳ (۴) ازالہ اوہام صفحه ۵۳۸ روحانی خزائن جلد ۳ (۵) اصحاب احمد جلد دوم صفحہ ۱۳۔۱۶ (۶) رجسٹر بیعت اولی مندرجہ تاریخ احمدیت جلد ا صفحه ۳۵۴ ☆ ۱۳۱۔حضرت مولوی عبدالقادر صاحب۔خاص لو دیا نہ ولادت : ۱۸۴۰ء۔بیعت : ۱۸۹۲ء سے قبل۔وفات : ۳۱ دسمبر ۱۹۲۰ء : تعارف و بیعت : حضرت مولوی عبد القادر رضی اللہ عنہ خاص لو دھیانہ کے رہنے والے تھے۔آئینہ کمالات اسلام میں جلسہ سالانہ ۱۸۹۲ء میں شامل ہونے والوں کی فہرست میں آپ کا نام ہے۔گویا اس وقت آپ حضرت اقدس کی بیعت میں شامل تھے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت کے بعد آپ کو بہت سی مالی و دیگر قربانیاں دینی پڑیں لیکن آپ چٹان کی طرح اپنے عقیدہ پر تادم آخر قائم رہے۔سیدنا حضرت اقدس نے آپ کو بیعت کی اجازت بھی دے