تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا

by Other Authors

Page 80 of 379

تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 80

80 رضی اللہ عنہ ( یکے از ۳۱۳) کی ہمشیرہ سے ہوئی اور آپ کی ایک بیٹی عزیزہ مریم بیگم اہلیہ مولانا عبد الرحیم در د صاحب تھیں۔آپ کے ایک بیٹے حضرت مولوی رحمت اللہ صاحب سنوری تھے۔جو قیام پاکستان کے بعد موضع ثابت شاہ متصل پنڈی بھٹیاں ضلع حافظ آباد میں تھے۔ار جنوری ۱۹۵۰ء کو وفات پائی۔میت ربوہ لائی گئی۔حضرت خلیفتہ اسیح الثانی نے خطبہ جمعہ میں آپ کی وفات کا ذکر کیا۔اور نماز جنازہ غائب بھی پڑھائی۔حضور نے فرمایا کہ مجھے اس جنازہ کی خبر نہیں دی گئی تھی۔یہ جنازہ حضرت مولوی عبداللہ صاحب سنوری کے بیٹے کا تھا۔جو مولوی عبد الرحیم صاحب درد ناظر امور خارجه صدرانجمن احمدیہ ) کے پھوپھی زاد بھائی تھے۔مولوی عبداللہ صاحب سنوری کی ہستی ایسی نہیں کہ جماعت کے جاہل سے جاہل اور نئے سے نئے آدمی کے متعلق بھی یہ قیاس کیا جا سکے کہ آپ کا نام معلوم نہیں۔حضرت مسیح موعود کا وہ کشف جس میں کپڑے پر سرخ روشنائی ظاہری طور پر دکھائی دی۔مولوی صاحب اس نشان کے حامل اور چشم دید گواہ تھے۔ان کی آنکھوں کے سامنے وہ چھینٹے گرے اور پھر خدا تعالیٰ نے انہیں یہ مزید فضیلت بخشی تھی کہ ایک چھینٹا ان کی ٹوپی پر بھی آپڑا۔گویا خدا تعالیٰ کے عظیم الشان نشان میں اور ایسے نشان میں جو دنیا میں بہت کم دکھائے جاتے ہیں وہ حضرت مسیح موعود کے ساتھ شامل تھے۔لیکن ان کے لڑکے کا جنازہ مہمان خانہ میں پڑا رہا مگر کسی نیک بخت کو یہ نہیں سوجھا کہ وہ ( بیوت) میں اعلان کرے کہ فلاں کا جنازہ آیا ہے احباب نماز میں شامل ہوں“۔ماخذ : (۱) ازالہ اوہام روحانی خزائن جلد ۳ (۲) آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد ۵ (۳) سراج منیر روحانی خزائن جلد۱۲ (۴) تحفہ قیصریہ روحانی خزائن جلد ۱۲ (۵) حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد ۲۲ (۶) ضمیمہ انجام آتھم روحانی خزائن جلدا اصفحہ ۳۱ (۷) رجسٹر بیعت اولیٰ مطبوعہ تاریخ احمدیت جلدا (۸) حیات احمد جلد اول صفحه ۴۴۴ (۹) مضمون 'براہین احمدیہ کے مطالعہ سے احمدیت“ مطبوعہ روز نامہ الفضل“ ربوہ مورخہ ۲۵ / اپریل ۲۰۰۲ء (۱۰) سیرۃ المہدی جلد دوم صفحہ ۱۰۷، ۱۰۹ (۱۱) تاریخ احمدیت جلد ۱۴۔☆ ۳۷۔حضرت شیخ عبدالرحیم صاحب الا ان میں مدارس دینیہ چھاونی سیالکوٹ ولادت :۱۸۷۳ء۔بیعت : ۱۸۹۴ء۔وفات : ۹/ جولائی ۱۹۵۷ء تعارف اور حضرت اقدس کی زیارت و صحبت : حضرت شیخ عبدالرحیم رضی اللہ عنہ (سابق جگت سنگھ ) کی ولادت ۱۸۷۳ء کی ہے آپ کا تعلق لاہور کے ایک سکھ گھرانے سے تھا آپ فوج میں ملازم تھے جب رخصت لے کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زیارت کے لئے قادیان آئے۔بیعت : آپ نے درد دل سے دعا کی اور اس خیال نے زور پکڑا کہ حضرت مرزا صاحب سے کوئی تعلق پیدا کر لیں۔حضرت حکیم مولوی نورالدین صاحب (خلیفہ امسیح الاوّل) رضی اللہ عنہ سے آپ نے دریافت کیا کہ کیا یہ ہو سکتا ہے