تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا

by Other Authors

Page 79 of 379

تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 79

79 پورے اترے۔آپ کی بیان کردہ بہت ساری روایات سیرت المہدی میں ہیں۔حضرت اقدس کی کتب میں ذکر : ازالہ اوہام میں حضرت اقدس نے فرمایا: جبی فی اللہ میاں عبد اللہ سنوری۔یہ جوان صالح اپنی فطرتی مناسبت کی وجہ سے میری طرف کھینچا گیا۔میں یقین رکھتا ہوں کہ وہ وفادار دوستوں میں سے ہے جن پر کوئی ابتلاء جنبش نہیں لاسکتا۔وہ متفرق وقتوں میں دو دو تین تین ماہ تک بلکہ زیادہ بھی میری صحبت میں رہا اور میں ہمیشہ بنظر امعان اس کی اندرونی حالت پر نظر ڈالتا رہا ہوں۔سو میری فراست نے اس کی تہ تک پہنچنے سے جو کچھ معلوم کیا وہ یہ ہے کہ یہ نوجوان در حقیقت اللہ اور رسول کی محبت میں ایک خاص جوش رکھتا ہے اور میرے ساتھ اس کے اس قدر تعلق محبت کے بجز اس بات کے اور کوئی بھی وجہ نہیں جو اس کے دل میں یقین ہو گیا ہے کہ یہ شخص محبان خدا اور رسول میں سے ہے اور اس جوان نے بعض خوارق اور آسمانی نشان جو اس عاجز کو خدا تعالیٰ کی طرف سے ملے بچشم خود دیکھے ہیں جن کی وجہ سے اس کے ایمان کو بہت فائدہ پہنچا۔الغرض میاں عبداللہ نہایت عمدہ آدمی اور میرے منتخب محبوں میں سے ہے اور باوجود تھوڑے سے گزارہ ملازمت پٹوار کے ہمیشہ حسب مقدرت اپنی مالی خدمت میں بھی حاضر ہے اور اب بھی بارہ روپیہ سالانہ چندہ کے طور پر مقرر کر دیا ہے۔بہت بڑا موجب میاں عبداللہ کے زیادت خلوص و محبت و اعتقاد کا یہ ہے کہ وہ اپنا خرچ بھی کر کے ایک عرصہ تک میری صحبت میں آکر رہتا رہا اور کچھ آیات ربانی دیکھتا رہا۔سو اس تقریب سے روحانی امور میں ترقی پا گیا۔کیا اچھا ہو کہ میرے دوسرے مخلص بھی اس عادت کی پیروی کریں۔“ آئینہ کمالات اسلام میں جلسہ سالانہ ۱۸۹۲ء کی فہرست میں اور چندہ دہندگان میں سراج منیر تحفہ قیصریہ میں چندہ مہمانخانہ اور جلسہ ڈائمنڈ جوبلی کتاب البریہ میں پُر امن جماعت کے ضمن میں ذکر ہے۔حقیقۃ الوحی ۵۵ ویں پیشگوئی اور نشان ۱۰۶ سرخی کے چھینٹوں والے نشان نیز ملفوظات جلد دوم سوم اور چہارم میں بھی ذکر ہے۔ضمیمہ انجام آتھم میں حضرت اقدس کے مخلصین اور مالی قربانی کرنے والوں میں آپ کا ذکر ہے۔وفات : آپ کی وفات ۷ اکتو بر ۱۹۲۷ء کو ہوئی۔آپ کا جنازہ حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے پڑھایا۔حضرت اقدس مسیح موعود کا سرخ چھینٹوں والا کر تم بھی حضرت میاں صاحب کے ساتھ ہی دفنا دیا گیا اور اس کی شہادت اخبار میں شائع کرانے کے لئے حضرت خلیفتہ المسیح نے ارشاد فرمایا تاکہ بعد میں کوئی جعلی کر تہ نہ پیش کر سکے۔آپ کی وصیت نمبر ۲۲۴ ہے تدفین بہشتی مقبرہ قادیان قطعہ نمبر ۳ حصہ نمبرہ میں ہوئی۔اولاد: آپ کے ایک بیٹے صوفی عبد القدیر صاحب نیاز مربی سلسلہ جاپان بھی رہے اور انگریزی رسالہ ریویو آف ریلیچنز کے ایڈیٹر بھی رہے اور کئی جماعتی خدمات بجا لاتے رہے۔آپ نے درنشین کے منتخب اشعار کا انگریزی ترجمہ کیا جو Psalms of Ahmad کے نام سے شائع ہوا۔آپ کی دوسری شادی حضرت ماسٹر قادر بخش صاحب