اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 55 of 617

اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 55

اصحاب بدر جلد 5 55 آپ کے ساتھ تھے۔ایک روایت کے مطابق اس میں حضرت عمر کا جھنڈ ا حضرت عامر کے پاس تھا۔اسی طرح حضرت عثمان جب حج پر تشریف لے گئے تو انہوں نے حضرت عامر گو مدینہ میں اپنا قائمقام مقرر فرمایا۔156 امیر مقامی مقرر فرمایا۔حضرت عامر بن ربیعہ کی وفات کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے۔بعض کے نزدیک آپ کی وفات حضرت عثمان کے دورِ خلافت میں ہوئی اور بعض کے مطابق 132 ہجری میں ہوئی جبکہ بعض کے نزدیک 133 ہجری میں ہوئی۔بعض کے نزدیک 136 ہجری میں اور بعض کے نزدیک 137 ہجری میں ہوئی۔علامہ ابن عساکر کے نزدیک 132 ہجری والی روایت زیادہ درست معلوم ہوتی ہے۔157 آپ کی وفات کے بارے میں روایت میں یہ بھی بیان ہے کہ حضرت عثمان کی شہادت کے بعد آپ اپنے گھر میں رہا کرتے تھے یہاں تک کہ لوگوں کو آپ کے بارے میں کوئی خبر نہ ہوئی یہاں تک کہ جب آپ کا جنازہ گھر سے نکلا۔158 عبد اللہ بن عامر اپنے والد حضرت عامر بن ربیعہؓ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک شخص نے بنو فزارہ کی ایک عورت سے دو جوتے حق مہر پر نکاح کر لیا۔آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس نکاح کو جائز قرار دیا۔یعنی یہ معمولی ساجو حق مہر تھاوہ مقرر کیا تو وہ بھی جائز ہے۔59 عبد اللہ بن عامر اپنے والد حضرت عامر بن ربیعہؓ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے سفر میں اپنی اونٹنی کی پیٹھ پر رات کو نفل پڑھے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرف منہ کیے ہوئے تھے جس طرف اونٹنی آپ کو لیے جارہی تھی۔160 سفر میں جدھر بھی سواری کا منہ ہو اس طرف منہ کر کے نماز پڑھنا جائز ہے حضرت عامر بن ربیعہ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک اندھیری رات میں سفر میں تھا۔ہم ایک مقام پر اترے تو ایک شخص نے پتھر اکٹھے کیے اور نماز کے لیے جگہ بنائی اور اس میں نماز پڑھی۔صبح معلوم ہوا کہ ہمار ا رخ غیر قبلہ کی طرف تھا۔قبلے سے الٹا تھا۔ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ یارسول اللہ ! ہم نے رات کو قبلے سے ہٹ کر نماز پڑھی ہے۔اس پر کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔وَلِلهِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ فَأَيْنَمَا تُوَلُّوا فَثَمَّ وجه الله (القر :116) کہ اور اللہ ہی کا ہے مشرق بھی اور مغرب بھی۔پس جس طرف بھی تم منہ پھیر دو ہیں خدا کا جلوہ پاؤ گے۔161 یعنی اگر غلط فہمی سے ہو گیا تو کوئی ہرج نہیں ہے۔یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ آیت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سمجھانے کے لیے ویسے پڑھ کر سنائی ہو۔ضروری نہیں ہے کہ اس وقت نازل ہوئی ہو۔بہر حال یہ روایت حلیۃ الاولیاء کی ہے۔