اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 54
54 اصحاب بدر جلد 5 ٹکڑا لے کر ان کے پیٹ پر رکھ کر ان کی کمر کے ساتھ مضبوطی سے باندھ دیا۔پھر وہ ہمارے ساتھ چل پڑے۔ہم ایک عرب قبیلے کے پاس پہنچے جنہوں نے ہماری ضیافت کی۔اس کے بعد آپ چل پڑے اور کیا کہ میں سمجھتا تھا کہ انسان کی ٹانگیں اس کے پیٹ کو اٹھائے ہوئے ہوتی ہیں حالانکہ اصل میں انسان کا پیٹ اس کی ٹانگوں کو اٹھائے ہوئے ہوتا ہے۔150 151 جب بھوک کی حالت ہو، فاقہ زدگی ہو، کمزوری ہو پھر انسان چل بھی نہیں سکتا۔حضرت ابو امامہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک موقعے پر حضرت عامر بن ربیعہ اور حضرت سہل بن حنیف کو جاسوسی کے لیے روانہ فرمایا۔18 ہجری میں جنگ ذات السلاسل میں حضرت عامر بن ربیعہ بھی شامل تھے اور اس میں آپ کے بازو پر تیر لگا جس کی وجہ سے آپ زخمی ہو گئے۔152 عبد اللہ بن عامر اپنے والد حضرت عامر بن ربیعہ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک قبر کے پاس سے گزرے تو آپ نے استفسار فرمایا کہ یہ کس کی قبر ہے ؟ لوگوں نے جواب دیا کہ فلاں عورت کی قبر ہے۔آپ نے فرمایا: تم نے مجھے کیوں اطلاع نہیں دی ؟ لوگوں نے عرض کیا کہ آپ سورہے تھے ہم نے مناسب نہیں سمجھا کہ آپ کو جگائیں۔اس پر اوپر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایسانہ کرو۔مجھے اپنے جنازوں کے لیے بلایا کرو پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں صفیں بنوائیں اور اس کی نماز جنازہ ادا کی۔153 وہیں قبر کے عبد اللہ بن عامر بیان کرتے ہیں کہ ان کے والد حضرت عامر بن ربیعہ نے بتایا کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں کسی سریہ میں روانہ فرماتے تھے تو ہمارے پاس زادِ راہ صرف کھجور کا ایک تھیلا ہو تا تھا۔امیر لشکر ہمارے درمیان ایک مٹھی بھر کھجور تقسیم کر دیتے تھے اور آہستہ آہستہ ایک ایک کھجور کی نوبت آجاتی تھی پھر آہستہ آہستہ وہ بھی ختم ہونے لگتی تھی تو سفر میں پھر ایک کھجور ایک آدمی کو ملا کرتی تھی۔حضرت عبد اللہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا۔ابا جان ! ایک کھجور کیا کفایت کرتی ہو گی ؟ اس سے پیٹ کیا بھر تا ہو گا ؟ انہوں نے کہا پیارے بیٹے ! ایسانہ کہو کیونکہ اس کی اہمیت ہمیں اس وقت معلوم ہوتی جب ہمارے پاس وہ بھی نہ ہوتی تھی۔154 یہ تو جو فاقے میں ہو اس سے پوچھو کہ ایک کھجور کی بھی کیا اہمیت ہے۔جب حضرت عمر نے اپنے دور خلافت میں خیبر کے علاقے سے یہود کو نکال دیا تو وادی قری کی زمینیں آپؐ نے جن لوگوں میں تقسیم فرمائیں ان میں حضرت عامر بن ربیعہ بھی تھے۔155 حضرت عمر جب جابیہ تشریف لے گئے ، یہ دمشق کے مضافات کی ایک بستی ہے ، تو حضرت عامر