اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 56
اصحاب بدر جلد 5 56 حضرت عامر بن ربیعہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو مجھ پر ایک مر تبہ درود بھیجتا ہے اللہ اس پر دس مرتبہ سلامتی بھیجتا ہے۔پس اب تمہاری مرضی ہے کہ مجھ پر کم درود بھیجو یازیادہ درود بھیجو۔ایک دوسری روایت میں ہے کہ حضرت عامر بن ربیعہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو کوئی بندہ مجھ پر سلامتی کی دعا کرتا ہے تو جب تک وہ اسی حالت میں ہوتا ہے فرشتے اس پر سلامتی کی دعا کرتے ہیں۔پس بندے کے اختیار میں ہے چاہے تو زیادہ مرتبہ سلامتی کی دعا کرے اور چاہے تو کم۔2 162 184 حضرت عامر بن سلمہ حضرت عمر و بن سلمہ حضرت عامر بن سلمہ کو عمرو بن سلمہ بھی کہا جاتا ہے۔ان کا تعلق قبیلہ بلی سے تھا۔بلی عرب کے ایک قدیم قبیلہ قضاعہ کی ایک شاخ ہے جو یمن کے علاقے میں واقع ہے۔اسی نسبت سے انہیں عامر بن سلمہ بلوی " بھی کہا جاتا ہے۔حضرت عامر انصار کے حلیف تھے۔حضرت عامر بن سلمہ کو غزوہ بدر اور احد میں شامل ہونے کی سعادت نصیب ہوئی۔13 163 185 حضرت عامر بن فهيرة ย ”اسلام کی تاریخ کے بعض اہم واقعات میں بھی ان کا کردار ہے“ آج میں حضرت عامر بن فهيدہ کا ذکر کروں گا اور ان کا کافی لمباذ کر تاریخ میں ملتا ہے۔اسلام کی تاریخ کے بعض اہم واقعات میں بھی ان کا کردار ہے۔انہیں ان کا حصہ بننے کی توفیق ملی۔اور وہ واقعات ایسے ہیں جن کی تفصیل بیان کرنا بھی ضروری ہے۔نام و نسب و کنیت ان کی کنیت ابو عمرو تھی اور قبیلہ آزد سے تعلق رکھتے تھے اور حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے اخیافی بھائی تطفیل بن عبد اللہ بن سخبرہ کے غلام تھے۔یہ بھی سیاہ فام غلام تھے۔اخیافی بھائی وہ ہوتے ہیں جوماں کی طرف سے بھائی ہوں۔باپ مختلف تھے۔