اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 279
279 239 اصحاب بدر جلد 5 نام و نسب حضرت عقبہ بن وهب حضرت عقبہ بن وہب کو ابن ابی وہب بھی کہا جاتا ہے۔یہ قبیلہ بنو عبد شمس بن عبد مناف کے حلیف تھے۔غزوہ بدر اور احد اور خندق سمیت تمام غزوات میں آنحضور صلی الی کمی کے ساتھ شامل تھے۔629 اے گروہ یہود ا تم خود ہمارے سامنے اس رسول کا تذکرہ کیا کرتے تھے b مدینہ میں یہود کا ایک وفد آپ صلی للی کم سے ملنے کے لئے آیا تو آنحضرت صلی ا ہم نے انہیں تبلیغ کی جس کا انہوں نے کھلے طور پر انکار کیا۔اس پر جن صحابہ نے انہیں اس کھلے انکار پر ملامت کی ان میں حضرت عقبہ بن وہب بھی شامل تھے۔چنانچہ یہ واقعہ اس طرح ملتا ہے کہ ایک دفعہ رسول اللہ صلی علیکم کے پاس نعمان بن أضاء بحری بن عمرو اور شائس بن عدی آئے۔آپ صلی علیہم نے ان سے بات چیت کی اور انہیں اللہ تعالیٰ کی طرف بلایا، اسلام کی دعوت دی۔اور اس کے عذاب سے انہیں ڈرایا جس پر انہوں نے کہا کہ اے محمد ( صلی علیہ ) ہمیں آپ کس بات سے ڈراتے ہیں؟ ہم تو اللہ کے بیٹے ہیں اور اس کے محبوب ہیں۔جس طرح نصاری نے کہا تھا۔اللہ تعالیٰ نے ان کے متعلق یہ آیت نازل فرمائی وَ قَالَتِ اليَهُودُ وَالنَّصْرِى نَحْنُ ابْنَةُ اللهِ وَاحِباؤُهُ قُلْ فَلِمَ يُعَذِّبُكُم بِذُنُوبِكُمْ بَلْ أَنْتُمْ بَشَرَ مِمَّنْ خَلَقَ يَغْفِرُ لِمَنْ يَشَاءُ وَيُعَذِّبُ مَنْ يَشَاءُ وَلِلَّهِ مُلْكُ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا ۖ وَإِلَيْهِ الْمَصِيرُ (المائدة: 19) اور یہود اور نصاریٰ نے کہا کہ ہم اللہ کی اولاد ہیں اور اس کے محبوب ہیں۔تو کہہ دے پھر وہ تمہیں تمہارے گناہوں کی وجہ سے عذاب کیوں دیتا ہے۔نہیں بلکہ تم ان میں سے ہو جن کو اس نے پیدا کیا محض بشر ہو۔وہ جسے چاہتا ہے معاف کر دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے عذاب دیتا ہے۔اور آسمانوں اور زمین کی بادشاہت اللہ ہی کی ہے اور اس کی بھی جو ان دونوں کے درمیان ہے اور آخر اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔ابن اسحاق کے مطابق رسول اللہ صلی علی ایم نے جب یہود کے گروہ کو قبول اسلام کی دعوت دی اور انہیں اس کی طرف ترغیب دلائی اور غیر اللہ کے معاملہ میں اللہ کی سزا کے متعلق انہیں ڈرایا تو انہوں نے نہ صرف آپ صلی اللہ ان کا بلکہ آپ کی لائی ہوئی تعلیم کا انکار کیا۔اس پر حضرت معاذ بن جبل، حضرت سعد بن عبادۃ اور حضرت عقبہ بن وہب نے انہیں کہا اے گروہ یہود اللہ تعالیٰ سے ڈرو۔اللہ کی قسم تم جانتے ہو کہ وہ رسول اللہ ہیں۔تم خود ہمارے سامنے ان کی بعثت سے پہلے اس کا تذکرہ کیا کرتے تھے اور ہمارے سامنے ان کی صفات بیان کیا کرتے تھے اس پر رافع بن محتر یملہ اور وہب بن یہوزا نے کہا کہ ہم